پاکستان کی محتاط جوابی کارروائی افغانستان کے لئے سبق ہے: گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ پاکستان کی محتاط جوابی کارروائی افغانستان کے لئے سبق ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اپنے بیان میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ افغانستان نہ بھولے پاک فوج نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے تھے، پاک فوج نے ایٹمی طاقت بھارت کو 6 گھنٹے میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی بلااشتعال کارروائی پر پاکستان نے ابھی چند اہداف نشانہ بنائے ہیں۔
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ افغانستان کسی زعم میں ہے تو پاکستان یہی پہاڑ طالبان کے سر پر توڑ دے گا، برطانیہ، سوویت یونین اور امریکا کو ہرانے کی باتیں کرنے والے حقیقت سے لاعلم ہیں۔
پاکستان کا جواب افغانستان میں فتنہ الہند کے دہشتگردوں کو بے اثر کرنے کیلئے ہے،اسحاق ڈار
مزید :.ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: گورنر سندھ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ گلبرگ ٹاؤن میں نمائشی کارروائیاں غیرقانونی تعمیرات بھی جاری
ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی نگرانی میں بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیاں ، مکین تنگ
عزیز آباد نمبر 2 کے پلاٹ 1142 پر منہدم شدہ کمرشل یونٹس کی ازسرنو تعمیرشروع
ضلع وسطی گلبرگ ٹاؤن کے علاقے عزیز آباد بلاک 2 میں واقع پلاٹ نمبر 1142 پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائی کے محض چند ماہ بعد ہی غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ دن کے اجالے میں جاری ہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق،ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جعفر امام صدیقی کی سربراہی میں منہدم کی جانے والی عمارتوں، کمرشل پورشن یونٹ اور دکانوں کی ازسرنو تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے ۔ یہ عمل اتھارٹی کے انہدامی اقدامات کی اثر پذیری پر سوالات کھڑے کر رہا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کی دوبارہ تعمیر سے نہ صرف بلڈنگ قوانین کی پامالی ہو رہی ہے بلکہ شہری تحفظ کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’غیرقانونی تعمیرات کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور منہدم کی گئی عمارتوں کی ازسرنو تعمیر کی صورت میں مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے ‘‘۔مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ،شہری حلقوں کا وزیر بلدیات سے مطالبہ ہے کہ عزیز آباد میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف نہ صرف فوری کارروائی کی جائے بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے ۔