مصر میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کردیئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شرم الشیخ؛ مصرکے شہر شرم الشیخ سمٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، ترک صدر رجب طیب اردوان اور قطر کے امیر نے ’’ غزہ امن معاہدے‘‘ پر دستخط کر دیئے ۔
مصرکے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی ، ترک صدر رجب طیب اردوان اور قطر کے امیر نے ’’ غزہ امن معاہدے‘‘ پر دستخط کر دیئے ۔
اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے، امن معاہدہ بڑی کامیابی ہے ، معاہدے کی دستاویز اصول و ضوابط کی وضاحت کرے گی ، غزہ میں امن معاہدے مشرق وسطی میں امن قائم ہوگا،امن معاہدے کو کامیاب بنانے میں تمام ممالک کے شکر گزار ہیں، جنگ بندی میں مصر کا کردار قابل تعریف ہے، امن معاہدے میں مصر کا اہم کردار ہے،یہ پوری دنیا ایک تاریخی دن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امن معاہدے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔