صوبے اگر ملکوں سے بات کریں گے تو پھر وفاق کا کیا کام؟ امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے استفسار کیا ہے کہ اگر صوبے خود ملکوں سے بات کریں گے تو پھر وفاق کا کیا کام رہ جائے گا؟
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں امیر مقام اور پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے اظہار خیال کیا، وفاقی وزیر نے کہا کہ کوئی ذمہ دار عہدے پر آئے تو ذمہ دارانہ بات کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بتانا چاہیے تھا کہ صوبے میں امن کیسے لانا ہے؟ انہیں صحت اور تعلیم سے متعلق بھی بات کرنی چاہیے تھی۔
امیر مقام نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی وزارت اعلیٰ کی حلف برداری سے قبل ہی اعلان جنگ کردیا ہے، صوبے اگر خود ممالک سے بات کریں گے تو پھر مرکز کہاں ہے؟
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتوں میں کیس لڑیں، بے گناہی ثابت کریں اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کرالیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔