وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہےکہ پاکستان اور افغانستان کےدرمیان کشیدگی برقرارہے، دوبارہ جھڑپیں ہوسکتی ہیں،امکان ردنہیں کیاجاسکتا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ افغان طالبان اور دیگردہشت گردتنظیمیں ایک وسیع اتحاد کا حصہ ہیں، اگرکسی ملک سے حملہ ہوتا ہے تو جواب کا حق مل جاتاہے، افغانستان مذاکرات کے ساتھ دھمکی بھی دیتاہے تو پہلے دھمکی پوری کرلے،اس وقت پاک افغان تعلقات میں فضاکشیدہ ہے کوئی رابطہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے جنہیں نشانہ بنایاانہیں افغان سرزمین کے اندرنشانہ بنایاہم نے شہریوں کو نہیں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ اگرنیک نیتی ہوتومسائل کادیرپاحل نکل سکتا ہے ۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری وفاق کی ہے صوبوں کی نہیں،

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہاکہ

پڑھیں:

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف اقدامات: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بیان

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے پاکستان کو اطلاع دی کہ انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چند افراد کو گرفتار کیا ہے، تاہم اس پر واضح کیا کہ چند سو افراد کی گرفتاری کافی نہیں ہے۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور امن ہی واحد راستہ ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے ماسکو، بحرین اور برسلز کے دورے کیے۔ ماسکو میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کی معاشی ترجیحات، علاقائی روابط اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر بات کی گئی۔ اس دوران صدر پیوٹن نے اجلاس میں شریک وفود کے سربراہان سے ملاقات بھی کی۔
برسلز میں وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے صدر کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں حصہ لیا۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، افغانستان، دہشت گردی اور جی ایس پی پلس سمیت مختلف امور پر بات ہوئی۔ انہوں نے یورپی یونین کے 27 ممالک کو بتایا کہ جو خبریں ان تک پہنچتی ہیں وہ ہمیشہ درست نہیں، اور افغانستان نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے، وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے کہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو پاک افغان سرحد سے دور رکھے یا پھر پاکستان کے حوالے کرے۔ افغانستان کو واضح کیا گیا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، اور پاکستان کی امن کی کوششوں کا مقصد صرف دہشت گردی کی روک تھام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے وعدوں کے مطابق اقدامات کیے، مگر افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے معاملے میں ابھی تک مکمل تعاون نہیں ملا، جس کی وجہ سے صورتحال مزید تشویشناک ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ معاہدے کے حامی مسلم ممالک کو ’اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور‘ کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے، خواجہ آصف
  • ہم انشاءاللہ دوبارہ پاکستان آئیں گے، سکندر رضا کا وطن واپسی پر ٹوئٹ
  • نہیں  چاہتے بھائی کو گھر میں گھس  کرماریں : اسحاق ڈار
  • افغانستان بطور عالمی دہشتگردی کا مرکز، طالبان کے بارے میں سخت فیصلے متوقع
  • دہشت گردی اور افغانستان
  • سفارتی روابط کمزور پڑ جائیں تو کشیدگی بڑھتی ہے، حنا ربانی کھر
  • اقوامِ متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش پر نظرثانی کی درخواست کردی، فیصلہ قیادت سے مشاورت کے بعد ہوگا: اسحاق ڈار
  • افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف اقدامات: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بیان
  • افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ