پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کا سنا ہے، واپس آکر دیکھنا ہوگا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں نے سنا ہے اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ چل رہی ہے، مجھے اسے واپس آکر دیکھنا ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا سے اسرائیل جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے پاک افغان جنگ سے متعلق گفتگو کی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں پھر ایک اور کوشش کروں گا کیونکہ میں جنگیں حل کرنے میں ماہر ہوں۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ ٹیرف کی مدد سے روکی تھی۔
واضح رہے کہ افغان طالبان اور بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے حملے بعد پاک فوج کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے طالبان اور فتنہ الخوارج کی متعدد چوکیاں تباہ کردیں، دشمن کی 21 پوزیشنز پر وقتی قبضہ کرلیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق طالبان کیمپوں اور چوکیوں پر فضائی ضربیں اور کارروائیاں بھی کی گئیں، طالبان فورسز اور ان سے وابستہ فتنہ الخوارج کے دو سو سے زیادہ جنگجو ہلاک کیے ہیں، دہشت گرد اپنی چوکیاں اور کمین گاہیں چھوڑ کر بھاگ گئے، جھڑپوں میں پاک فوج کے 23 بہادر جوانوں نے دفاع وطن میں جام شہادت نوش کیا، جبکہ 29 سپاہی زخمی ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔