لاہور ٹیسٹ: پاکستان نے جنوبی افریقا کو شکست دیکر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کرلی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے جنوبی افریقا کو 93 رنز سے شکست کر دو میچوں کی سیریز میں ایک صفر کر سبقت حاصل کر لی۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ کے چوتھے دن کا آغاز جنوبی افریقا کے بیٹر ریان ریکلیٹن اور ٹونی ڈی ذوزی نے کیا لیکن ڈی ذوذی اپنے گزشتہ روز کے اسکور میں بغیر کوئی اضافہ کیے شاہین شاہ آفریدی کا شکار ہو گئے۔
اس کے بعد نعمان علی نے پہلے ٹریسٹن اسٹبز اور پھر ڈیوڈبریوس کو آؤٹ کیا جبکہ ساجد خان نے جنوبی افریقا کے سیٹ بیٹر ریان ریکلیٹن کو 45 رنز پر کیچ آؤٹ کروا دیا۔
شاہین شاہ آفریدی نے وریینی اور سبراین کو آؤٹ کیا جبکہ ساجد خان نے متھو سوامے کو اپنا شکار بنایا۔
خیال رہے کہ کھیل کے تیسرے دن جنوبی افریقی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں کھانے کے وقفے سے پہلے ہی آؤٹ ہوگئی تھی اور پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز میں 378 رنز کے جواب میں 269 رنز بنا سکی تھی۔
پاکستان ٹیم نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز 109 رنز کی برتری سے کیا اور تیسرا دن مکمن بھی نہیں ہوا تھا کہ 167 پر ڈھیر ہوگئی اور یوں جنوبی افریقا کو جیت کے لیے 277 کا ہدف ملا۔
جنوبی افریقی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں کھیل کے تیسرے دن کے اختتام تک 2 وکٹوں کے نقصان پر 51 رنز بنا چکی تھی۔ کپتان ایڈن مارکرم 3 اور ویان ملڈر بغیر کوئی رن بنا ئے آؤٹ ہوئے تھے۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنوبی افریقا
پڑھیں:
نون لیگ اپنی مضبوط ترقیاتی ساکھ کے باعث دوبارہ سیاسی برتری حاصل کر رہی ہے، ثروت صبا
نون لیگ گلگت بلتستان خواتین ونگ کی جنرل سیکرٹری ثروت صباء نے ایک بیان یں کہا ہے کہ وفاقی وزیر احسن اقبال کے تاریخی دورہ گلگت بلتستان کے بعد سیاسی ہلچل مچ گئی ہے، نون لیگ کی مقبولیت آسمان تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ گلگت بلتستان خواتین ونگ کی جنرل سیکرٹری ثروت صباء نے ایک بیان یں کہا ہے کہ وفاقی وزیر احسن اقبال کے تاریخی دورہ گلگت بلتستان کے بعد سیاسی ہلچل مچ گئی ہے، نون لیگ کی مقبولیت آسمان تک پہنچ گئی ہے، جس کے بعد پیپلزپارٹی کی مایوسی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ نون لیگ اپنی مضبوط ترقیاتی ساکھ کے باعث دوبارہ سیاسی میدان میں برتری حاصل کر رہی ہے۔ پی پی کے گزشتہ دور حکومت میں ترقیاتی منصوبوں میں شدید سست روی، بیڈ گورننس اور محکمہ تعلیم میں مبینہ طور پر نوکریوں کی فروخت جیسے سنگین الزامات عوامی ناراضگی کا بنیادی سبب ہے۔ نوجوانوں میں خاص طور پر غم و غصہ اس وجہ سے بڑھا کہ محکمہ تعلیم میں میرٹ کے بجائے سفارش اور کرپشن کے چرچے عام رہے۔ اس کے برعکس، مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں انفراسٹرکچر کی بحالی، توانائی منصوبوں میں تیزی اور تعلیمی سہولیات کی بہتری جیسے اقدامات کے ذریعے خطے میں حقیقی تبدیلی کی بنیاد رکھی، جسے عوام آج بھی سنجیدگی سے یاد رکھتے ہیں۔
مزید ان کا کہنا تھا کہ سیاسی منظرنامہ اس وقت بدل گیا جب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور امیر مقام کے حالیہ دورے میں گلگت بلتستان کے لیے متعدد میگا پروجیکٹس کا اعلان کیا گیا۔ عوامی اجتماعات میں ان کے ناقابلِ تردید حقائق، مستقبل کی واضح ترقیاتی حکمت عملی اور خطے کو قومی دھارے میں شامل کرنے جیسے اقدامات نے عوامی جوش کو نئی سطح پر پہنچا دیا۔ احسن اقبال اور امیر مقام کے دورے نے نون لیگ کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کیا، جبکہ پیپلز پارٹی کی صفوں میں مایوسی، اضطراب اور سیاسی بے یقینی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ پی پی پی کے مقامی رہنما اندرونِ خانہ اس بات کا اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ عوامی اعتماد بحال کرنا اب اُن کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ آنے والے انتخابات میں یہ سیاسی فضا بڑے فیصلوں کو جنم دے سکتی ہے اور موجودہ صورتحال میں برتری واضح طور پر مسلم لیگ (ن) کے پلڑے میں دکھائی دے رہی ہے۔