پہلے ٹیسٹ میچ کا دوسرا روز: جنوبی افریقہ کیخلاف پاکستانی ٹیم 378 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں جنوبی افریقہ کے خلاف جاری پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 378 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان نے کھیل کے دوسرے روز 313 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ سے اپنی نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی جبکہ محمد رضوان 62 اور سلمان علی آغا 52 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: 3 سال میں صرف 3 نصف سینچریز، بابر اعظم ٹیسٹ کرکٹ میں مکمل ناکام ہوگئے
محمد رضوان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 75 رنز کی اننگز کھیلی مگر وہ 362 کے مجموعے پر آؤٹ ہوگئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے فوراً بعد نعمان علی اور ساجد خان بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ یہ تینوں وکٹیں اسپنر سینوران متھوسامے کے حصے میں آئیں جنہوں نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
سلمان علی آغا بدقسمتی سے نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے اور 93 رنز پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے، جبکہ شاہین شاہ آفریدی نے 7 رنز بنائے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور ٹیسٹ کے پہلے دن کا کھیل ختم: پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف 5 وکٹوں پر 313 رنز بنا لیے
جنوبی افریقا کی جانب سے پرینیلان سبراین نے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ کگیسو ربادا اور سائمن ہارمر کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔
پاکستان کی جانب سے اب ذمہ داری بولرز پر عائد ہوتی ہے کہ وہ جنوبی افریقا کے بلے بازوں کو جلد آؤٹ کر کے میچ پر گرفت مضبوط کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیسٹ میچ جنوبی افریقہ قذافی اسٹیڈیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیسٹ میچ جنوبی افریقہ قذافی اسٹیڈیم جنوبی افریقہ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔