افغان بستی میں آپریشن، 300 سے زائد غیر قانونی تعمیرات مسمار
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کراچی کے علاقے ناردرن بائی پاس پر قائم افغان بستی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑا آپریشن کیا گیا، جس کے دوران 300 سے زائد مکانات اور دکانیں مسمار کر دی گئیں۔ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق آپریشن مکمل طور پر پولیس کی نگرانی میں انجام دیا گیا اور اس دوران مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا ٹاسک پورا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کل صبح دوبارہ شروع کیا جائے گا اور یہ چند روز تک جاری رہے گا۔
ڈی آئی جی کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے، جبکہ افغان بستی میں 24 گھنٹے کے لیے پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ دوبارہ کسی کو سرکاری زمین پر قبضے کا موقع نہ مل سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔