وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں جاری آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوسرے روز اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب  نے آئی ایم ایف کے  ڈپٹی  مینیجنگ ڈائریکٹر نگل کلارک سے ملاقات کی، ڈپٹی  مینیجنگ ڈائریکٹر نگل کلارک کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی کی تعریف کی گئی۔

وزیرِ خزانہ نے ملکی معیشت میں بہتری اور استحکام کے سفر کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا، آئی ایم ایف کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف) کے  دوسرے جائزہ اور ریزائلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی ٹرسٹ (آر ایس ٹی)  کے پہلے جائزہ عمل  پر حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے  پاکستان میں حالیہ سیلابوں کے دوران جان و مال کے نقصان پر  اظہار ہمدردی پر شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی معاشی نمو 3.

6 اور افراط زر 6 فیصد رہنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

وفاقی وزیر خزانہ  سینیٹر محمد اورنگزیب   نے   ورلڈ بینک کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے علاقائی نائب صدر عثمان ڈیون سے بھی ملاقات کی۔

حکومت  کی توجہ ورلڈ بنک  کے   جانب سے پاکستان کے ساتھ جاری کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کی مؤثر نفاذ پر مرکوز ہے، حکومت نے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے متوقع نتائج کو مؤثر طریقے سے حاصل کرنے کے لیے ایک جامع نفاذ کا فریم ورک تیار کیا ہے، صوبائی حکومتیں اس  منصوبے میں  مکمل طور پر شامل ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کی  جانب سے   مختص کردہ  رقوم میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاکستان دستیاب آئی ڈی اے وسائل  تک  بہتر  رسائی  کا خواہاں ہے۔

موسمی شدت  کے نتیجے میں  آفات کے پیش نظر  نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت سیلابوں سے نمٹنے کے لئے جامع اور طویل مدتی پروگرام مرتب کیا جائے۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مشرق بینک کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد عبدالال اورسینئر مینجمنٹ سے ملاقات کی، وزیر خزانہ نے پاکستان اور عالمی شہرت  یافتہ  بینک کے درمیان طویل مدتی شراکت داری کو سراہا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشرق بینگ کی آمد سے نہ صرف پاکستان کے مالیاتی نظام کو مضبوطی ملے گی بلکہ جدت کو بھی فروغ ملے گا۔ 

انہوں نے بینک کے کمرشل آغاز پر مینجمنٹ کو مبارکباد دی اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت مالیاتی شعبے کی طویل مدتی ترقی اور کامیابی کے لیے ایک معاون پالیسی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی آئی ایم ایف۔ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت سے معاشی ایجنڈے میں مؤثر پیشرفت ہوئی، امریکی حکام، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں ، اصلاحات اور ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں جاری آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوسرے روز اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

وزیر خزانہ نے امریکی حکومت، آئی ایم ایف، عالمی بینک، سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ اور عالمی سرمایہ کاروں کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کیں۔

وزیرِ خزانہ نے امریکی صدر کے معاون برائے بین الاقوامی معاشی تعلقات ایموری کاکس، سینیئر ڈائریکٹر برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور رِکی گل، اور وائٹ ہاؤس کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے قائم مقام چیئرمین پیئر یارِد سے ملاقات کی۔

وزیر خزانہ نے جولائی میں امریکی کامرس سیکریٹری ہاورڈ لُٹنک اور یو ایس ٹی آر سفیر سارہ گریئر سے اپنی ملاقاتوں کا حوالہ دیا۔

وزیر خزانہ  نے کہا کہ تجارت کے میدان میں ابھرنے والے اتفاقِ رائے کو جامع معاشی شراکت داری میں بدلنے کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں توانائی، معدنیات، زراعت، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ 

وزیرِ خزانہ نے حالیہ سیلابی نقصانات پر امریکہ کی جانب سے اظہارِ ہمدردی پر شکریہ بھی ادا کیا۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ کے سی ای او معالی سلطان عبدالرحمن المشد سے ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیر خزانہ نے سعودی آئل سہولت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے حیدرآباد۔سکھر موٹروے (M-6)، مین لائن-1 (ML-1)، ہنر مندی کے فروغ اور آئی ٹی انفراسٹرکچر جیسے منصوبوں میں مزید تعاون کی درخواست کی۔

سعودی فنڈ کی جانب سے پاکستان کے ڈیجیٹلائزیشن ایجنڈے میں تعاون کی یقین دہانی کا بھی خیرمقدم کیا۔

آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائیجل کلارک سے ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی کو سراہنے پر شکریہ ادا کیا۔

وزیر خزانہ نے عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت استحکام اور اصلاحات کے جاری عمل کو برقرار رکھے گی۔

وزیر خزانہ نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی ٹرسٹ کے تحت معاونت پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا۔

جی-24 وزرائے خزانہ اور گورنرز کے اجلاس سے خطاب میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی حالیہ میکرو اکنامک استحکام کی پیش رفت کو اجاگر کیا، جو ٹیکس، توانائی اور سرکاری اداروں میں ساختی اصلاحات کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہے۔ 

وزیر خزانہ نے علاقائی تجارتی راہداریوں اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جہفرِیز انٹرنیشنل کی جانب سے منعقدہ سرمایہ کاروں کے اجلاس میں وزیرِ خزانہ نے شرکاء کو پاکستان کی معاشی صورتحال، مالیاتی و مانیٹری پالیسیوں، بیرونی شعبے کی حرکیات اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری شراکت پر بریفنگ دی۔

انہوں نے ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری کے منصوبوں اور برآمدات میں اضافے کے لیے حکومتی ٹیرف پالیسی پر روشنی ڈالی۔ اجلاس کے آخر میں سرمایہ کاروں کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔

ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان و پاکستان عثمان دیون سے ملاقات میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کو دہرایا۔ 

انہوں نے بتایا کہ اس کے لیے ایک جامع عملدرآمدی منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے جس میں صوبائی حکومتوں کی مکمل مشاورت شامل ہے۔ 

انہوں نے پاکستان کی موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کے لیے طویل المدتی فلڈ مِٹیگیشن پروگرام کے لیے معاونت کی درخواست بھی کی۔

مشرف بینک کے گروپ سی ای او احمد عبدالعل اور اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان اور اس عالمی شہرت یافتہ مالیاتی ادارے کے دیرینہ تعلقات کو سراہا۔

انہوں نے بینک کے پاکستان میں باقاعدہ تجارتی آغاز پر انتظامیہ کو مبارکباد دی اور یقین ظاہر کیا کہ مشرف بینک کی آمد مالیاتی نظام میں جدت لانے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے میں مدد دے گی۔

وزیرِ خزانہ نے ورلڈ بینک کے زیر اہتمام مشین ایگری کنیکٹ: فارمز، فرمز اینڈ فنانس فار جابز ڈائیلاگ میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان کی معیشت میں زراعت کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا۔

انہوں نے خریداری اور قیمتوں کے حکومتی کنٹرول میں کمی کی سفارش کی، اور کاشتکاروں کے لیے رعایتی قرضوں، فسٹ لاس گارنٹیز اور بغیر ضمانت فنانسنگ جیسے اقدامات پر زور دیا۔

انہوں نے کولڈ چین، ویئرہاؤسنگ اور ہارٹیکلچر ویلیو ایڈیشن میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیرِ خزانہ نے ورلڈ بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں موسمیاتی لچک اور کاربن میں کمی پر توجہ کو سراہتے ہوئے صدر اجے بانگا کی اس تجویز کی تائید کی کہ کامیاب ماڈلز سے سبق حاصل کیا جائے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سینیٹر محمد اورنگزیب نے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک شکریہ ادا کیا سے ملاقات میں سرمایہ کاروں پر شکریہ ادا ورلڈ بینک کے آئی ایم ایف نے پاکستان وفاقی وزیر پاکستان کے پاکستان کی کی جانب سے ملاقات کی انہوں نے کاروں کے کے عزم کے لیے عزم کا

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری