بغیر ضمانت آن لائن قرض حاصل کرنے کا طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
(ویب ڈیسک)اب کسان حضرات بغیر ضمانت آن لائن زرعی قرض حاصل کرسکیں گے، اسٹیٹ بینک نے کسان سپورٹ انیشیٹو کی تفصیلات جاری کردیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آسان ڈیجیٹل زرعی قرض کا اجرا کیا جارہا ہے، وزیراعظم کے زرعی شعبے کی ٹرانسفارمیشن وژن کے تحت چھوٹے کسانوں کیلئے رسک کوریج سکیم متعارف کرائی گئی ہے۔
جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان نے قومی سبسٹنس کسان سپورٹ انیشیٹو کا آغاز کردیا، کسان کےلئے پورٹل اور موبائل ایپ'' ذرخیز ''متعارف کرائی گئی ہے۔
ڈیلی ویجرز کی تنخواہوں میں اضافہ
اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ کسان بغیر ضمانت آن لائن زرعی قرض حاصل کرسکیں گے، انیشیٹو کا 75 فیصد قرض معیاری بیج، کھاد اور ادویات کی شکل میں دیا جائےگا۔
اسٹیٹ بینک کے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ کسانوں کو پیداوار بڑھانے کیلئے ایگری کلچرل ایڈوائزری سروسز بھی فراہم کی جائےگی۔
.ذریعہ: City 42
پڑھیں:
انہدامی کارروائی منتخب حکومت کو ذلیل کرنے کی سازش ہے، عمر عبداللہ
وزیراعلٰی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انہدامی کارروائی مخصوص نوعیت کی لگ رہی ہے اور ایک خاص برادری (مسلمانوں) کو نشانہ بنائے جانے کی طرف عندیہ دیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے مختلف علاقوں میں جاری انہدامی کارروائیوں پر راج بھون کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ راج بھون کے ماتحت افسران جان بوجھ کر منتخب حکومت کی منظوری کے بغیر ہی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ عمر عبداللہ انہدامی کارروائی کو منتخب حکومت کو بدنام اور ذلیل کرنے کی سازش قرار دیا۔ سرینگر میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ فیلڈ اسٹاف، ریونیو حکام کو عوامی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر ہی انہدامی کارروائیوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزراء کی منظوری کے بغیر بلڈوزر استعمال کئے جا رہے ہیں، جو ان کے مطابق حکومت کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ افسران ہماری مرضی کے بغیر فیصلے سنا کر کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ ریونیو اور فیلڈ اسٹاف کو منتخب حکومت کے تحت کام کرنا چاہیئے، لیکن بلڈوزر ہماری مشاورت کے بغیر استعمال کئے جا رہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہماری حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔
عمر عبداللہ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انہدامی کارروائی مخصوص نوعیت کی لگ رہی ہے اور ایک خاص برادری (مسلمانوں) کو نشانہ بنائے جانے کی طرف عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا جموں میں صرف ایک ہی جگہ پر غیر قانونی تعمیرات تھیں، صرف ایک شخص کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا، کیا اس کی وجہ مذہب تھا، اس طرح کی کارروائی ناانصافی پر مبنی ہے اور سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ عمر عبداللہ کا اشارہ گزشتہ کل جموں میں ایک آئن لائن پورٹل سے وابستہ صحافی کا رہائشی مکان گرائے جانے کی طرف تھا۔ ارفاز نامی ایک صحافی کے مطابق ان کا مکان جمعرات کی صبح منہدم کیا گیا اور کارروائی سے قبل نہ انہیں پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی انہیں گھریلو سامان باہر نکالنے کا موقع دیا گیا۔ اس انہدامی کارروائی کی سیاسی و سماجی حلقوں نے مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی میں ملوث سے متعلق اپنا پلو جھاڑا۔