سندھ بلڈنگ گلبرگ ٹاؤن میں نمائشی کارروائیاں غیرقانونی تعمیرات بھی جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی نگرانی میں بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیاں ، مکین تنگ
عزیز آباد نمبر 2 کے پلاٹ 1142 پر منہدم شدہ کمرشل یونٹس کی ازسرنو تعمیرشروع
ضلع وسطی گلبرگ ٹاؤن کے علاقے عزیز آباد بلاک 2 میں واقع پلاٹ نمبر 1142 پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائی کے محض چند ماہ بعد ہی غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ دن کے اجالے میں جاری ہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق،ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جعفر امام صدیقی کی سربراہی میں منہدم کی جانے والی عمارتوں، کمرشل پورشن یونٹ اور دکانوں کی ازسرنو تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے ۔ یہ عمل اتھارٹی کے انہدامی اقدامات کی اثر پذیری پر سوالات کھڑے کر رہا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کی دوبارہ تعمیر سے نہ صرف بلڈنگ قوانین کی پامالی ہو رہی ہے بلکہ شہری تحفظ کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’غیرقانونی تعمیرات کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور منہدم کی گئی عمارتوں کی ازسرنو تعمیر کی صورت میں مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے ‘‘۔مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ،شہری حلقوں کا وزیر بلدیات سے مطالبہ ہے کہ عزیز آباد میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف نہ صرف فوری کارروائی کی جائے بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے ۔
.ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیرقانونی تعمیرات سندھ بلڈنگ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا: جعلی اور مضر صحت دودھ بنانے والا بڑا نیٹ ورک بے نقاب
خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے حطار انڈسٹریل زون میں قائم مصنوعی اور مضر صحت دودھ بنانے والی فیکٹری پکڑ لی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 93 فیصد دودھ مضرصحت قرار، مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن
کارروائی ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید کی نگرانی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر رات گئے کی گئی۔
بدنام زمانہ نیٹ ورک رنگے ہاتھوں گرفتارڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق پنجاب کے ضلع بہاولنگر سے تعلق رکھنے والا جعلی دودھ تیار کرنے والا گروہ فیکٹری میں مصنوعی دودھ بنا رہا تھا۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سخت کارروائیوں کے بعد یہ گروہ خیبر پختونخوا منتقل ہو گیا تھا جہاں کے پی فوڈ اتھارٹی کی بروقت کاروائی نے ان کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔
کیمیکلز اور مضر صحت مواد برآمدکارروائی کے دوران فیکٹری سے مصنوعی دودھ کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز، خام مال اور مشینری قبضے میں لی گئی۔ ڈی جی کے مطابق فیکٹری میں بھاری مشینوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر مضر صحت دودھ تیار کیا جا رہا تھا۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں 26 منرل واٹر برانڈز انسانی صحت کے لیے غیرمحفوظ قرار
مزید براں مضر صحت دودھ سے بھرے ٹینکرز بھی موقع پر پکڑے گئے۔
روزانہ ایک لاکھ لیٹر مصنوعی دودھ کی سپلائیڈائریکٹر جنرل کے مطابق یہ نیٹ ورک مبینہ طور پر روزانہ تقریباً ایک لاکھ لیٹر مصنوعی دودھ اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہروں کو سپلائی کر رہا تھا۔
ایک اور کارروائی میں فیکٹری سے 50 ہزار لیٹر کیمیکل ملا دودھ بھی برآمد ہوا۔
فیکٹری سیل، ایف آئی آر درج، گرفتاریاںکارروائی کے دوران منیجر سمیت 3 سے 4 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔
فیکٹری کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ تمام مشینری سرکاری تحویل میں لے لی گئی۔
فوڈ اتھارٹی ٹیم معطلڈی جی کے مطابق غفلت برتنے پر متعلقہ فوڈ اتھارٹی ٹیم کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان دشمن عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور مصنوعی دودھ بنانے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا تعاون قابل تحسینڈائریکٹر جنرل نے کارروائی میں تعاون کرنے پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کے وژن اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کی ہدایات کے مطابق صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: دودھ میں 8 فیصد پانی ملانے کی اجازت، خیبرپختونخوا میں ایسا کیوں ہوا؟
ڈائریکٹر جنرل حلال فوڈ اتھارٹی نے بھی واضح کیا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کیمکل والا دودھ مضر صحت دودھ ملاوٹ والا دودھ