پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی حالیہ سرحدی جارحیت کے بعد مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے قندھار، کرم، سپن بولدک اور چمن میں اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق قندھار میں طالبان کی ”بٹالین نمبر 4“ اور ”بارڈر بریگیڈ نمبر 6“ سمیت متعدد ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے.جس میں درجنوں افغان اور خارجی شدت پسند ہلاک ہوئے۔اسی طرح کرم سیکٹر میں 8 پوسٹیں اور 6 ٹینک تباہ ہوئے، جبکہ چمن اور سپن بولدک میں تقریباً 15 سے 20 دہشتگرد مارے گئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے دیہات اور معصوم شہریوں کو اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور پاک افغان دوستی گیٹ کو نقصان پہنچایا، تاہم پاک فوج کی بروقت کارروائی نے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔دوسری جانب ترجمان افغان طالبان حکومت کے جھوٹے دعوے کہ پاکستانی ٹینک قبضے میں ہیں، پاکستان نے ان دعووں کو بے نقاب کر دیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نقصان کے بعد جھوٹے پروپیگنڈا کا سہارا لینے پر مجبور ہیں، ترجمان نے سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے کی ناکام کوشش کی، ویڈیو میں تاثر دیاگیا کہ ٹی 55 ٹینک پاکستانی فوج سے چھینا گیا ہے، روسی ساختہ ٹی 55 ٹینک افغان طالبان کے زیر استعمال ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے افغان طالبان کے حملے کو مؤثرطریقے سے پسپا کر دیا.

افغان طالبان جھوٹے پروپیگنڈا کے باوجود دفاع میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ چمن میں افغان فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ سے 2 بچوں سمیت 4 شہری زخمی ہوئے. جس کے بعد تمام تعلیمی ادارے بند اور پولیو مہم عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔پاک فوج نے سرحدی علاقوں میں گشت بڑھا کر صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی سازشوں کو ناکام بنا دیا اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو گئی ہے۔

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان

پڑھیں:

افغان رجیم پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ افغان طالبان کی موجودہ رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق رواں سال دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں 1873 دہشتگرد مارے گئے جن میں 136 افغان شہری شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس سال ملک بھر میں 67 ہزار 23 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں ہوئیں۔ 4 نومبر 2025 سے اب تک کے 4910 آپریشنز میں 206 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ پاک افغان سرحد مشکل اور طویل ہے، اور اس کی مؤثر نگرانی دونوں ممالک کے مشترکہ تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی میں افغان طالبان کی سہولت کاری واضح ہے، اور سرحدی علاقوں میں دہشتگرد نیٹ ورکس، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں نے سکیورٹی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ طالبان نے دوحا معاہدے کے تحت اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ القاعدہ، داعش اور دیگر تنظیموں کی قیادت اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور وہاں سے اسلحہ و فنڈنگ حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 366,704 اور 2025 میں 971,604 افغان مہاجرین کو واپس بھیجا گیا، صرف نومبر میں 239,574 افراد واپس گئے۔
بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کے بیانات حقیقت کے منافی ہیں اور وہ اپنی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف زہریلا بیانیہ زیادہ تر بیرونِ ملک سے چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کا واحد طریقہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل ہے، جس کے لیے بلوچستان میں مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دہشت گردی اور افغانستان
  • افغان رجیم پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ترجمان پاک فوج
  • افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • ’’بلڈ اینڈ بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘
  • سیکیورٹی فورسز کی ڈی آئی خان میں دہشتگردوں کیخلاف کارروائی، 22خوارج ہلاک
  • وائٹ ہاوس پر فائرنگ، افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن گئی
  • وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ؛ افغان طالبان رجیم  پوری دنیا کے امن کےلیے سنگین خطرہ