پاک فوج کا افغان جارحیت کا جواب، ژوب اور چمن سیکٹرز میں متعدد پوسٹیں، ٹی ٹی پی کے ٹھکانے تباہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف مختلف سیکٹرز میں بھرپور جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائیوں میں بھاری توپ خانے کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاک فوج کے شدید جواب کے سامنے افغان طالبان پسپا، بارڈر پوسٹ پر سفید جھنڈا لہرا دیا
کارروائیوں کے دوران کئی طالبان جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان کو جانی اور مالی دونوں لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی مارٹر فائرنگ سے پورا علاقہ دھوئیں کے بادلوں میں ڈھک گیا، جبکہ دھماکوں کی آوازیں طویل وقت تک سنائی دیتی رہیں۔
ذرائع کے مطابق پاک فوج ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان پاک فوج
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :