پاک فوج کا افغان جارحیت کا جواب، ژوب اور چمن سیکٹرز میں متعدد پوسٹیں، ٹی ٹی پی کے ٹھکانے تباہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف مختلف سیکٹرز میں بھرپور جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائیوں میں بھاری توپ خانے کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاک فوج کے شدید جواب کے سامنے افغان طالبان پسپا، بارڈر پوسٹ پر سفید جھنڈا لہرا دیا
کارروائیوں کے دوران کئی طالبان جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان کو جانی اور مالی دونوں لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی مارٹر فائرنگ سے پورا علاقہ دھوئیں کے بادلوں میں ڈھک گیا، جبکہ دھماکوں کی آوازیں طویل وقت تک سنائی دیتی رہیں۔
ذرائع کے مطابق پاک فوج ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان پاک فوج
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔