پاکستان آرمی نے افغان طالبان کے اہم ٹھکانوں کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ نشانہ بازی کے لیے کی جانے والی درست کارروائیاں افغان صوبہ قندھار میں انجام دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کا افغان جارحیت کا جواب، ژوب اور چمن سیکٹرز میں متعدد پوسٹیں، ٹی ٹی پی کے ٹھکانے تباہ

ان کارروائیوں کے نتیجے میں افغان طالبان کے بیٹلین نمبر 4 اور بارڈر بریگیڈ نمبر 6 مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ اس کارروائی میں درجنوں غیر ملکی اور افغان آپریٹیوز ہلاک ہوئے

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا سخت اور مکمل جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

افغان طالبان نے جنگ بندی کی درخواست کر دی

پاک فوج کے مؤثر اور بھرپور جوابی حملے کے نتیجے میں اسپن بولدک اور چمن سیکٹر میں افغان طالبان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد افغان طالبان نے پاکستان سے جنگ بندی کی درخواست کر دی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائی میں طالبان کے متعدد ٹھکانے، پوسٹس اور ٹینک تباہ کر دیے گئے، جبکہ کئی جنگجو مارے گئے۔

افغان طالبان کا بزدلانہ حملہ اور پاک فوج کا مؤثر جواب

آئی ایس پی آر کے مطابق آج15 اکتوبر کی صبح افغان طالبان نے بلوچستان کے اسپن بولدک علاقے میں چار مختلف مقامات پر بزدلانہ حملہ کیا۔

پاک فوج نے بھرپور حکمتِ عملی سے کارروائی کرتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا۔ طالبان نے عام شہریوں کے علاقوں کو استعمال کیا، جس سے ان کی انسانی اقدار سے لاتعلقی واضح ہوئی۔

پاک افغان فرینڈشپ گیٹ کی تباہی

افغان طالبان نے اپنی جانب سے پاک افغان فرینڈشپ گیٹ کو تباہ کر دیا، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرحدی تعاون کے تصور کی کھلی نفی ہے۔

An Afghan Taliban fort in the Chaman sector, getting destoryed by the Pakistani artillery, along the Pakistan-Afghanistan international border.

#Pakistan#chaman #pakafghanborder pic.twitter.com/CYRKKuHPbW

— Ronny (@FreePalesten) October 15, 2025

جوابی کارروائی اور طالبان کے بھاری نقصانات

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے اسپن بولدک اور چمن سیکٹر میں افغان طالبان اور فتنے الخوارج کے ٹھکانوں پر مؤثر کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران طالبان کی متعدد چوکیوں اور ٹینکوں کو تباہ کیا گیا، جبکہ 15 سے 20 جنگجو ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

کرم سیکٹر میں بھی حملے ناکام بنائے گئے

آئی ایس پی آر کے مطابق14 اور 15 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنے الخوارج نے خیبرپختونخوا کے کرم سیکٹر میں پاکستانی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی، جسے پاک فوج نے مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے نتیجے میں 8 افغان چوکیوں اور 6  ٹینکوں سمیت 25 سے 30 جنگجو مارے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی گھمنڈ اور اشتعال انگیز بیانات سےجنوبی ایشیا میں امن کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے: پاک فوج

سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شکست خوردہ افغان طالبان نے سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور جھوٹی اطلاعات پھیلانا شروع کر دی ہیں، جن میں پاک فوج کے جنگی سازوسامان پر قبضے کے بے بنیاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ان پروپیگنڈہ بیانات میں کوئی صداقت نہیں۔

پاک فوج کا واضح پیغام

آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب بھرپور، فیصلہ کن اور ایک درجے بلند انداز میں دیا جائے گا۔

صدر آصف علی زرداری کی افغان سرزمین سے سرحد پار حملوں کی شدید مذمت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغان علاقے سے سرحد پار کیے گئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور انہیں پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

کرم: افغانستان کی پاکستانی حدود میں پھر فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی سے طالبان کی پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور جانی نقصان بھی ہوا ہے pic.twitter.com/55EN0Vrfif

— WE News (@WENewsPk) October 14, 2025

صدر زرداری نے کہا کہ ایسے حملے خطے کے امن اور دوستی کے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پورے خطے بشمول پاکستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔

سرحدی حملوں کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار

صدر زرداری نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے کی جانے والی سرحد پار کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور باہمی اعتماد کی خلاف ورزی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ بڑے خطرات پیدا کرتا ہے۔

طالبان حکومت کی دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور پناہ گاہیں فراہم کرنا

صدر مملکت نے کہا کہ افغان طالبان حکومت دوحہ معاہدے کی روح اور شقوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے اور اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، جو خطے کے لیے سنجیدہ خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت نے وسیع البنیاد نمائندہ حکومت کے قیام کے وعدے سے بھی انحراف کیا ہے اور اقتدار پر اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔

پاک فوج کی کارکردگی کو خراجِ تحسین

صدر زرداری نے مسلح افواج کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور فوری کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے اسپن بولدک اور کرم سیکٹر میں ہونے والے حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا، اور اس بہادری نے ملک کے دفاع کو مضبوط دکھایا۔

افغان حکام کو ہدایت اور علاقائی امن کی خواہش

صدر نے افغان حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک سے پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے۔

صدر زرداری نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان پر کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور اور دوٹوک جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی سلامتی اور باہمی احترام کے مفاد میں تنازعات کو سفارتی اور ثبوتی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے، مگر دفاعِ وطن کے لیے تمام اختیارات بروئے کار لائے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغان طالبان پاک آرمی پاکستان قندھار

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان طالبان پاک ا رمی پاکستان قندھار سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے کے مطابق پاک اسپن بولدک پاک فوج کا پاک فوج نے طالبان کے خلاف ورزی جارحیت کا سیکٹر میں نے کہا کہ انہوں نے کے لیے ایس پی

پڑھیں:

افغانستان بطور عالمی دہشتگردی کا مرکز، طالبان کے بارے میں سخت فیصلے متوقع

تاجکستان اور امریکا میں ہونے والے دہشتگرد حملوں نے افغانستان کے بارے میں دنیا کی تشویش میں خاطرخواہ اِضافہ کر دیا ہے اور اب عالمی اور علاقائی طاقتوں کے نزدیک افغانستان ایک بڑھتی ہوئی سیکیورٹی تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد 2593 میں واضح طور پر طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کے لیے پناہ گاہ نہ بننے دیں۔ بین الاقوامی انسدادِ دہشتگردی ادارے بھی اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرحد پار سرگرمیوں کی صلاحیت خطے اور دنیا دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان سرحد کی بندش سے افغانستان کو کتنا تجارتی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے؟

بعض رپورٹس کے مطابق شام سے جنگجوؤں کے افغانستان منتقل ہونے اور وہاں سے نئے علاقائی خطرات پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں عالمی برادری طالبان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ شدت پسند گروہوں کے کیمپ ختم کریں، فنڈنگ روکیں اور بیرونِ ملک کارروائیوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کریں۔

علاقائی طاقتیں

 خصوصاً پاکستان، چین، روس اور ایران، اس سلسلے میں سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ ان ممالک نے حال ہی میں مشترکہ طور پر اس امر پر زور دیا ہے کہ افغانستان کو دہشتگردی کے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے، داعش، ٹی ٹی پی  اور دیگر دہشتگرد گروہ نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بھی بنتے ہیں۔

ان ممالک کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ طالبان حکومت دہشتگرد گروہوں کے خلاف موثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے، ان کے کیمپ بند کرے، مالی معاونت روکے، اسلحے کی ترسیل ختم کرے اور سرحد پار حملوں کی روک تھام کو یقینی بنائے۔

مغربی طاقتیں

 خصوصاً امریکا اور یورپی یونین اس سلسلے میں ایک محتاط اور دو بدو پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اگرچہ طالبان انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور سیاسی شمولیت پر مغربی معیارات سے مطابقت نہیں رکھتے، لیکن سیکیورٹی خطرات کے باعث مغربی ممالک طالبان کے ساتھ محدود رابطہ برقرار رکھنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان تناؤ، جے شنکر کے بیان سے امید باندھیں؟

بعض یورپی ریاستوں نے عملی ضرورت کے تحت طالبان کے ساتھ تکنیکی سطح پر تعلقات قائم کیے ہیں تاکہ مہاجرین، انسدادِ دہشتگردی اور باہمی سیکیورٹی امور پر گفتگو جاری رہ سکے، مگر باضابطہ تسلیم کرنے یا مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

اگر ہم بھارت کو سبق سکھا سکتے ہیں تو یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نے 19 اپریل کو افغانستان کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے پورے کئے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کا معاملہ چلتا رہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمارا افغانستان سے صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہونی چاہیئے۔ اسحاق ڈار نے سوال اُٹھایا کہ ہر قسم کے دہشتگرد گروہ افغانستان میں ہی کیوں ہیں اور افغان ان گروہوں کو نکال باہر کریں۔

اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جانب سے درخواست آئی ہے کہ افغانستان کے لیے انسانی امداد و خوراک کو بحال کریں، میں نے مسلح افواج کے سربراہ سے بات کی ہےجلد وزیراعظم سے بھی بات کروں گا، جلد ہم عام افغان عوام کی تکالیف کو دیکھتے ہوہے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد و خوراک کے جانے کی اجازت دیں گے۔

پاک افغان ناکام مذاکرات پر افغان ہرزہ سرائی کے بعد اچانک افغان حکومت کے روّیے میں تبدیلی

اکتوبر کے اواخر اور نومبر کے شروع میں پاک افغان مذاکرات ناکام ہوئے تو افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیرخان متقی نے کہا کہ دہشتگردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور پاکستان اِس کی ذمے داری افغانستان پر ڈالنا چاہتا ہے، یہ بات اُنہوں نے بھارت میں بھی کہی جس کو بھارت میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ لیکن پاکستان 4 سال قبل افغان طالبان رجیم کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک سرحد پار دہشتگردی کا شکار ہے جس کو بعض ممالک کی جانب سے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا گیا۔

گزشتہ 3 دن کے واقعات جس میں افغان سرزمین سے تاجکستان پر حملہ اور 3 چینی شہریوں کی ہلاکت، اِسی طرح سے افغان شہری کی فائرنگ سے واشنگٹن ڈی سی میں 2 امریکی فوجیوں کے قتل کے بعد سے عالمی سطح پر افغانستان کو دہشتگردی کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک

جہاں ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کے وقت امریکی طیاروں میں ہزاروں افغانوں کی امریکا آمد کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہیں امریکی ویزا ڈیپارٹمنٹ نے افغان پاسپورٹس پر تمام مسافروں کی آمد پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ امریکہ میں موجود تمام افغان باشندوں کے گرین گارڈ اور سیاسی پناہ کے عمل کو روک دیا ہے۔

بی بی سی کی خبر کے مطابق امریکا میں موجود افغان باشندوں نے افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے حملے اور دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اُن کے خلاف ایکشن نہ لیا جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم اکثر افغانی پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی کبھی مذمت نہیں کرتے بلکہ اُس پر سوشل میڈیا پر فخریہ انداز میں باتیں کرتے ہیں۔

دوسری طرف تاجکستان حکومت افغانستان کو دہشتگردی اور عدم استحکام کا ممکنہ مرکز سمجھتی ہے، اور اس خوف کی بنیاد صرف ماضی کے واقعات نہیں بلکہ مستقبل کی پیش گوئی پر بھی ہے۔ تاجکستان کی تشویش کی وجوہات، سرحدی قربت، دہشتگرد نیٹ ورکس، مہاجرین/پناہ گزین دباؤ، اور علاقائی سیکیورٹی، سب مل کر یہ مؤقف مضبوط کرتی ہیں کہ افغانستان کی حالت براہِ راست تاجکستان کے مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے

افغان شہریوں کی بیدخلی پاکستان پر تنقید کرنے والے ممالک بھی افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کر رہے ہیں

2023 میں جب پاکستان نے افغان شہریوں کی بیدخلی کے عمل کو شروع کیا تو اُس پر عالمی اداروں جیسا کہ یو این ایچ سی آر اور مغربی ممالک کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی لیکن اب امریکہ بھی افغان شہریوں کی بیدخلی کی بات کر رہا ہے اور اِس سے قبل اگر دیکھا جائے تو یورپ میں جرمنی نے 2021 کے بعد دوبارہ منظم ڈی پورٹیشن شروع کی اور 2025 میں درجنوں افغان مردوں کو واپس بھیجا، جبکہ سویڈن، نیدرلینڈز، آسٹریا، بیلجیم، فرانس، ڈنمارک، ناروے، سپین، اٹلی اور سویٹزرلینڈ نے بھی مسترد شدہ پناہ کی درخواستوں یا مجرمانہ ریکارڈ کی بنیاد پر افغان باشندوں کو ڈی پورٹ کیا۔ جبکہ آسٹریلیا اور کینیڈا سے بھی افغان باشندوں کی واپسی کی مثالیں ملیں۔ خلیجی ریاستوں میں یہ زیادہ تر غیرقانونی رہائش یا سکیورٹی بنیادوں سے منسلک تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار امریکا پاک افغان تاجکستان دہشتگردی طالبان

متعلقہ مضامین

  • افغان طالبان  دہشت گردوں کے سہولت  کار : ڈی  جی آئی ایس پی آر 
  • افغانستان بطور عالمی دہشتگردی کا مرکز، طالبان کے بارے میں سخت فیصلے متوقع
  • دہشت گردی اور افغانستان
  • بحیرہ اسود میں یوکرین کے ڈرونز حملوں روسی ٹینکرز تباہ، ویڈیو وائرل
  • افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • دمشق پر اسرائیلی حملوں میں 10 شامی شہری جاں بحق، متعدد فوجی زخمی
  • دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ
  • ’’بلڈ اینڈ بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘
  • وائٹ ہاوس پر فائرنگ، افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن گئی
  • وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ؛ افغان طالبان رجیم  پوری دنیا کے امن کےلیے سنگین خطرہ