پاکستان کی جانب سے قندھار اور کابل میں فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگنڈ کارروائی ، سیکیورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کی جانب سے قندھار اور کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگنڈ کارروائی کی گئی ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق شہری آبادی سے الگ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب کیے گئے اور انہیں کامیابی سے تباہ کیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ کابل میں فتنہ الخوارج کے مرکز اور لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ پاک فوج نے قندھار میں افغان طالبان کی بٹالین ہیڈکوارٹر نمبر 4، 8 اور بارڈر بریگیڈ نمبر 5 کے اہداف کو نشانہ بنایا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔