نوبل انعام کون دیتا ہے اور یہ کیسے طے ہوتے ہیں؟ جانیے نامزدگی اور انعام کی تفصیلات
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اس سال کا نوبل امن انعام 10 اکتوبر 2025 کو اعلان کیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ جنوری سے اب تک 7 جنگیں ختم کرنے پر یہ انعام کے حقدار ہیں۔
نوبل انعامات 1901 میں بانی الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق شروع کیے گئے، تاکہ سائنس، ادب، طب، معیشت اور امن کے شعبوں میں غیر معمولی خدمات کو سراہا جا سکے۔
مزید پڑھیں: نوبل انعام 2025 کا پہلا اعلان: مکمل شیڈول اور انعامی رقم جاری
رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز (فزکس، کیمسٹری، اکنامکس)
نوبل اسمبلی، کارولنسکا انسٹیٹیوٹ (میڈیسن)
سوئیڈش اکیڈمی (ادب)
ناروے کی نوبل کمیٹی (امن)
مزید پڑھیں: جمی کارٹر دوبارہ صدر کیوں منتخب نہ ہوسکے تھے، نوبل انعام کیوں ملا؟
انعام یافتگان کو گولڈ میڈل، ڈپلومہ اور ڈلرز ملتے ہیںہر انعام کے ساتھ ایک گولڈ میڈل، ڈپلومہ اور قریباً 1.
نوبل کمیٹیاں صرف منتخب ماہرین، سابق انعام یافتگان اور تعلیمی شخصیات کو نامزدگی کے لیے مدعو کرتی ہیں، جو 31 جنوری تک اپنی سفارشات جمع کراتے ہیں۔ کوئی شخص خود کو نامزد نہیں کر سکتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور اسرائیل نے مئی 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو امن انعام کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈونلڈ ٹرمپ رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز سوئیڈش اکیڈمی نوبل انعام
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز سوئیڈش اکیڈمی سوئیڈش اکیڈمی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم