بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد بحال، ستمبر میں ترسیلات زر 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ ستمبر 2025ء میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر 3.2 ارب امریکی ڈالر کی سطح عبور کر گئیں۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 11.
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں، جن کی مالیت 750.9 ملین ڈالر رہی۔ متحدہ عرب امارات سے 677.1 ملین ڈالر، برطانیہ سے 454.8 ملین ڈالر جبکہ امریکا سے 269 ملین ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ دیگر خلیجی اور یورپی ممالک سے بھی قابلِ ذکر رقم موصول ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کے ساتھ مضبوط مالی رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ نہ صرف بیرون ملک پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے بلکہ باضابطہ بینکاری ذرائع کے استعمال میں اضافے کا نتیجہ بھی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی مالی پالیسیوں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی سہولت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات نے بھی اس رجحان کو فروغ دیا ہے۔
ترسیلات زر میں یہ اضافہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے اور روپے کے استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں ملکی معیشت کو قدرے استحکام حاصل ہوگا اور درآمدات کے دباؤ میں کمی آئے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ترسیلات زر بیرون ملک ملین ڈالر
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔