پاکستان کی قندھار اور کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاکستان نے قندھار اور کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ کارروائی کرتے ہوئے کابل میں فتنہ الخوارج کے مرکز اور لیڈرشپ کو نشانہ بنایا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے قندھار اور کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ کارروائی کی، شہری آبادی سے الگ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب اور کامیابی سے تباہ کیا گیا۔
پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کےحملے کو مؤثر طریقے سے پسپا کر دیا ہے، پاک فوج کی سخت اور شدید جوابی کارروائی نے افغان طالبان کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج افغان طالبان کے جھوٹے پروپیگنڈے کے باوجود عزم و حوصلے کے ساتھ دفاع وطن میں مصروف ہے، شکست خوردہ افغان طالبان بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد جھوٹے پروپیگنڈا کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پوسٹ شیئر کرکے جھوٹ پھیلانے کی ناکام کوشش کی، ویڈیو میں تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ٹی 55 ٹینک پاکستانی فوج سے چھینا گیا ہے، روسی ساختہ ٹی 55 ٹینک حقیقت میں افغان طالبان کے زیر استعمال ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میں افغان طالبان افغان طالبان کے کابل میں
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔