پاک فوج کا نوشکی سیکٹر میں افغانستان کو بھرپور جواب، غزنالی پوسٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاک فوج نے نوشکی سیکٹر میں افغانستان کو بھرپور جواب دیتے ہوئے غزنالی پوسٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا۔
پاک فوج نے افغان طالبان فورسز کی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کی، جاری فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افغانستان کی حدود میں 3 کلومیٹر اندر واقع غزنالی پوسٹ تباہ کی گئی۔
افغان طالبان فوجی جوابی حملے میں غزنالی پوسٹ اور اسلحہ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کے بزدلانہ حملے ناکام، طالبان اور فتنۃ الخوارج کے 50 جنگجو ہلاک، متعدد زخمی
12/11 اکتوبر کے درمیانی رات فوج کی مؤثر کارروائیوں سے اب تک سرحد پار طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں، پاک فوج نے 21 افغان طالبان پوسٹیں عارضی طور پر قبضے میں لیں جب کہ دہشتگردوں کے کئی تربیتی کیمپ ناکارہ بنائے۔
انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق 200 سے زائد طالبان اور ان کے معاون دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، پاک فوج کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔
پاک فوج کا نوشکی سیکٹر میں افغانستان کو بھرپور جواب، غزنالی پوسٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا
پاک فوج کی افغان طالبان فورسز کی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی
فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افغانستان کی حدود میں تین کلومیٹر اندر واقع غزنالی پوسٹ تباہ کی گئی
افغان طالبان… pic.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان طالبان غزنالی پوسٹ پاک فوج
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز