وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کی تبدیلی وقت کے لحاظ سے ٹھیک نہیں: علی موسیٰ گیلانی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
ملتان سے پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی کا کہنا ہے کہ وزیرِاعلیٰ خیبر پختون خوا کی تبدیلی وقت کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔
یہ بات انہو ں نے ’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
علی موسیٰ گیلانی نے کہا کہ تحریکِ انصاف میں اندرونی اور انا کے مسائل زیادہ ہیں، یہ جو ڈپلومیٹک سطح پر بات کرنا چاہ رہے ہیں اس سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی عروج پر ہے، ہمارے جوانوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں۔
پروگرام میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ایک شخص جو سزا یافتہ ہو کیا وہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا حکم دے سکتا ہے؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ نئے وزیرِ اعلیٰ وفاق سے نہیں تو کیا کابل سے احکامات لیں گے؟ وہ یہ بات کیوں کر رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ نے وفاق سے ہدایات نہیں لینی؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔