بھارت میں مودی سرکار نے مسلمانوں کا اپنے نبی آخری الزماں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اظہارِ محبت کرنا بھی جرم بنا دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمانوں نے مختلف ریاستوں میں ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ پر مبنی بل بورڈز اور بینرز آویزاں کیے تھے۔ جو ہندو انتہاپسندوں کو ایک آنکھ نہ بھائے۔  

جس کے بعد مختلف ریاستوں میں پولیس نے اس جملے کو مذہبی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے ڈھائی ہزار سے زائد مسلمانوں کے خلاف مقدمات قائم کیے ہیں جن میں سے متعدد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

یہ معاملہ پہلی بار اُس وقت سامنے آیا تھا جب ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں میلاد النبی ﷺ کے موقع پر بعض مقامات پر ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ کے بورڈز آویزاں کیے گئے تھے۔

مقامی ہندو تنظیموں نے اعتراض اٹھایا کہ یہ اقدام مذہبی اشتعال کا باعث بن سکتا ہے جس پر حکام نے کارروائی شروع کی اور کئی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ اسی دوران بعض گھروں کو بلڈوز کر کے منہدم بھی کر دیا گیا۔

کانپور سے شروع ہونے والا یہ معاملہ اب دیکھتے ہی دیکھتے دیگر ریاستوں جیسے تلنگانہ، مہاراشٹرا، گجرات اور اتر کھنڈ تک پھیل گیا جہاں پولیس نے مزید گرفتاریاں کیں۔

کئی شہروں میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تو مظاہروں کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے گئے۔ بریلی میں احتجاج کے بعد درجنوں افراد گرفتار ہوئے اور ایک مسجد کے امام سمیت چار شہریوں کی املاک مسمار کر دی گئیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ لکھی ہوئی ٹی شرٹس ہورڈنگز اور دیواروں کی تصاویر وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔

مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کیا بھارت میں عشقِ رسول پر مبنی جملہ بھی اب ایک جرم سمجھا جائے گا۔ یہ مذہبی آزاد اور آزادی اظہار رائے کے بنیادی خلاف کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

 

 

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئی لو محمد ﷺ

پڑھیں:

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھائونی اور پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے، حریت کانفرنس

بھارتی حکومت نے جو گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے تمام بنیادی اور سیاسی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت نے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کو ایک فوجی چھائونی اور پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے جو 5 اگست 2019ء کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بنا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت اور اس کے مقررکردہ لیفٹیننٹ گورنر کی قابض انتظامیہ نے مظلوم کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے اور انہیں گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر محکوم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی تسلط کے دوران کشمیری عوام کی عزت و آبرو اور جان و مال محفوظ بالکل بھی نہیں ہیں اور مقبوضہ علاقے میں تعینات لاکھوں بھارتی قابض فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر کھلی چھوٹ حاصل ہے۔

بھارتی حکومت نے جو گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے تمام بنیادی اور سیاسی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ تاہم 05 اگست 2019ء کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی اور وحشیانہ مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ حریت ترجمان نے گزشتہ کئی برسوں سے بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں نظربندحریت رہنمائوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی فورسز کی طرف سے پورے مقبوضہ علاقے میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران جاری کشمیریوں کی گرفتاری کی تازہ لہر کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد الزامات کے تحت چار ہزار سے زائد حریت رہنمائوں اور کارکنوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے۔ گھروں پر چھاپوں اور جبری گرفتاریوں کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے حریت ترجمان نے کہا کہ ان جابرانہ ہتھکنڈوں کا مقصد کشمیر کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنا ہے۔

ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے غیر قانونی طور پر نظربند حریت رہنمائوں اور کارکنوں بشمول حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف الدین، راجہ معراج الدین کلول، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، مولوی بشیر عرفانی، بلال صدیقی، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر حمید فیاض، نور محمد فیاض، ظفر اکبر بٹ، ایڈووکیٹ زاہد علی، عبدالاحد پرہ، اسداللہ پرے، عمر عادل ڈار، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، رفیق احمد گنائی، محمد یاسین بٹ، فردوس احمد شاہ اور انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی غیر قانونی نظربندی کے دوران بہادری اور استقامت پر انہیں سلام پیش کیا، جنہیں بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں بدترین سیاسی انتقامی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حریت ترجمان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیری نظربندوں کی حالت کا فوری نوٹس لیں جنہیں جیلوں میں علاج معالجے اور مناسب خوراک جیسی سہولتوں سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے علاقائی اور عالمی امن اور خوشحالی کے بہترین مفاد میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں امتیازی سلوک کے بڑھتے واقعات نے مسلمانوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی: ایرانی میڈیا
  • کلاس روم سے گلیوں تک: بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ خوفناک سلوک کی رپورٹ جاری
  • فاروق رحمانی کی جموں میں صحافی کے گھر کو مسمار کرنے کی مذمت
  • جرائم کا سدباب کرنا ہے تو مجرموں کے سرپرست حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی،پروفیسر محمد ابراہیم
  • بھارت نے پاکستانی ڈرامے بلاک کردیے
  • عالمی مقابلہ حسن قرآت کے شرکا کے اعزاز میں سینٹر طلحہ محمود کا عشائیہ
  • قابض انتظامیہ نے کشمیری صحافی عرفاز دانگ کا گھر مسمار کر دیا
  • بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھائونی اور پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے، حریت کانفرنس
  • مودی دور میں ہندوتوا نظریہ مضبوط، اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوگئیں
  • اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ساتھ عالمی قرأت مقابلہ کے شرکاء میں اسناد اور شیلڈز تقسیم کر رہے ہیں