قومی وسندھ اسمبلی :راج ناتھ کے بیان کیخلاف قراردادیں منظور،ہندو کمیونٹی کی بھارتی ہائی کمیشن پر دھرنے کی دھمکی،سکھوںکا پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد/ کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک+ اسٹاف رپورٹر) بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے سندھ کو بھارت کا حصہ بنائے جانے والے اشتعال انگیز بیان کے خلاف قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان قابل مذمت اور پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے، سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، ملک بھر کی محب وطن ہندو کمیونٹی نے بھی بھارتی وزیر دفاع کے متنازع پر بھارتی ہائی کمیشن پر دھرنے کی دھمکی دی ہے جبکہ بھارتی وزیرِ دفاع کی جانب سے سندھ پر حملے کی دھمکی کے بعد سکھ برادری نے بھارت کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں بھارت کے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کردی گئی اور کہا گیا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جہاں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن اسمبلی اسلم عالم نیازی نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سندھ سے متعلق بیان پر مذمتی قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان قابل مذمت ہے اور یہ بیان پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ قراردار میں کہا گیا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔علاوہ ازیں سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے سندھ سے متعلق بیان پر پیپلز پارٹی کے رکن مکیش کمار چاولہ نے مذمتی قرارداد ایوان میں پیش کی۔ حکومت اور اپوزیشن کی مذمتی قراردادوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان سے بدترین شکست کھانے کے بعد بھارتی وزیر دفاع بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی گیدڑبھپکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، بھارت کوبدترین شکست دلانے والے وزیردفاع کا بیان کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے، نہ کوئی سندھ کو پاکستان سے الگ کرسکتا ہے اور نہ ہی جغرافیہ بدل سکتا ہے، سندھ متحد اور پاکستان کے ساتھ رہے گا۔ سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق فرحان نے بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے سندھ کو بھارت کا حصہ بنائے جانے والے اشتعال انگیز بیان کے خلاف سندھ اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرار داد پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے طیاروں کی انڈسٹری کو تباہ کردیا۔ بھارت کے جنگی طیارے تو ائر شو میں شو کرنے کے قابل بھی نہیں وہ تو باہر ہی گر جاتے ہیں ، مودی ہمارے ساتھ جنگ کس منہ سے کریں گے۔ فاروق فرحان نے کہا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جس کی اسمبلی نے قرار داد پاکستان منظوری اور پاکستان کا جھنڈا لہرایا، صوبہ سندھ تحریک پاکستان میں بھی سرفہرست رہا، انہوں نے کہا کہ پاکستان آج بھی اپنے نظریہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ پر قائم ہے جبکہ بھارت کا ہندو توا نظریہ زمین بوس ہوچکا ہے، مودی ہماری فکر چھوڑیں اپنی فکر کریں کیوں کہ وہ تنہائی کا شکار ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے بھی قرارداد کی بھرپور حمایت کی۔ مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرارداد میںحکومت پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس قراداد کو ر دنیا بھر کو بھیجے اور بتایا جائے کہ بھارت سندھو دریا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی فورمز پر بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی مذمت کی جائے۔ بعدازاںسندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔مزید برآں بھارتی وزیرِ دفاع کی جانب سے سندھ پر حملے کی دھمکی کے بعد سکھ برادری نے بھارت کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کر دیا ہے۔ سکھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی جبر و استبداد کا مزید حصہ نہیں بن سکتے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان کے دفاع میں کھڑے ہوں گے۔ سکھوں کی بڑی عالمی تنظیم “سکھ فار جسٹس” نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی مقبوضہ پنجاب کے سکھ رضاکاروں کو پاک فوج میں شامل ہونے کے لیے خصوصی راستہ فراہم کیا جائے۔ تنظیم کے سربراہ گرمیت سنگھ پنوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ دفاع کی دھمکی کے بعد ضروری ہے کہ پاکستان سکھوں کے لیے فوری بھرتی کا عمل شروع کرے تاکہ وہ سندھ کے دفاع میں کردار ادا کر سکیں۔ سکھ فار جسٹس نے خصوصی سکھ رضاکار یونٹ بنانے اور اس کی تعیناتی سندھ کے دفاع کے لیے مختص کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ تنظیم کے مطابق جیسے ہی پاکستان اندراج کا پروٹوکول جاری کرے گا، دنیا بھر سے ہزاروں سکھ رضاکار بھرتی کے لیے تیار ہوں گے۔ دریں اثنا ملک بھر کی محب وطن ہندو کمیونٹی نے بھارتی وزیر دفاع کو اپنا متنازع بیان واپس لینے کے لیے3 دن کا الٹی میٹم دے دیا بصورت دیگر بھارتی ہائی کمیشن پر دھرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جمعرات کو کراچی پریس کلب کے باہر صدر پاکستان ہندو کو نسل پرشوتم رمانی کی قیادت میں ہندو کمیونٹی کے افراد کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں وکرم راٹھی، مان لال اور چیف کو آرڈی نیٹر کرشن ساگر سمیت ہندو کونسل کے اعلی عہدے دار، سول سوسائٹی، اسٹوڈنٹس اور میڈیا سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں پاکستان زندہ باد، سندھ ہماری دھرتی ماں اور بھارتی وزیر دفاع کے قابل مذمت بیان کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے پاکستان زندہ باد، پاک فوج باد کے نعرے لگائے، مودی حکومت اور بھارتی وزیر دفاع کے خلاف نعرے بازی کی۔ پاکستان ہندو کونسل کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کے شرکا نے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کا یہ مطالبہ بھی دہرایا کہ بھارتی وزیر دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیان کا سفارتی سطح پر موثر نوٹس لیا جائے اور عالمی برادری کو بھی بھارت کی بلاجواز اشتعال انگیزی سے آگاہ کیا جائے۔ صدر پرشوتم روانی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا احتجاج ہمارے تین روزہ احتجاجی مظاہروں کی پہلی کڑی ہے، ہم راج ناتھ سنگھ کے غیر محتاط، اشتعال انگیز اور حقائق کے منافی بیان کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور مودی سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ راج ناتھ کے بیان سے سرکاری سطح پر لاتعلقی کا اظہار کیا جائے اور جواب طلبی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ بھارتی وزیر دفاع بھارتی وزیر دفاع کے متفقہ طور پر منظور سندھ اسمبلی میں کی جانب سے سندھ مذمتی قرارداد دفاع راج ناتھ راج ناتھ سنگھ ہندو کمیونٹی کے خلاف پاکستان کا کہ پاکستان کہا گیا کہ کرتے ہوئے نے کہا کہ کہ بھارت نے بھارت کیا جائے بھارت کے کی دھمکی دفاع کی کے بعد کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :