Jang News:
2026-06-03@04:39:54 GMT
چارسدہ: 8 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، لاش کھیتوں سے ملی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں 8 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا، لاش رات کو قریبی کھیتوں سے ملی۔
چارسدہ کے تھانہ تنگی کی حدود عمر خان کلے گنڈھیری میں 8 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد گلے میں پھندا ڈال کر قتل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوگئی ہے، بچی شام پانچ بجے کے بعد گھر کے سامنے سے غائب ہوئی تھی جس کو گلے میں پھندا ڈال کر قتل کیا گیا، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
چارسدہ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔