لاہور:

ایگزیکٹیو کمیٹی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) بابوصابو میں پاکستان کے سب سے بڑے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ  کے منصوبے کی منظوری دے دی۔

ترجمان واسا نے بتایا کہ بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام کی باضابطہ منظوری ایکنک نے دے دی ہے، یہ منصوبہ یومیہ 88 ملین گیلن گندے پانی کی ٹریٹمنٹ کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پاکستان کا سب سے بڑا ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ہوگا، منصوبے کو فرینچ ڈیولپمنٹ ایجنسی اے ایف ڈی کے تعاون سے  مکمل کیا جائے گا۔

ترجمان واسا نے بتایا کہ یہ منصوبہ ایکٹیویٹڈ سلج ٹریٹمنٹ پر مبنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے تحت مکمل کیا جائے گا، بابو صابو کے مقام پر یہ پلانٹ تقریباً 52 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں کینٹ ڈرین، ملتان روڈ اور گلشن راوی کے علاقوں کا سیوریج پانی صاف کیا جائے گا، اس منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی لاہور شہر کی ماحولیاتی پائیداری میں نمایاں بہتری آئے گی۔

ترجمان واسا نے کہا کہ منصوبے کے لیے زمین حاصل کی جا چکی تھی، جو اس وقت لاہور کے اسٹریٹیجک ماحولیاتی تحفظ کے منصوبے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

واسا لاہور نے اس منصوبے کو ماحولیاتی تحفظ، صاف پانی کے استعمال اور دریائے راوی کی بحالی کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔

ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد کے مطابق یہ منصوبہ دریائے راوی کے تحفظ اور زیر زمین پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا جائے گا

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • واپڈا کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادو شمار جاری
  • پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز آج رات اہم مقابلہ، سب کی نظریں میچ پر
  • گھر کے شیر باہر ڈھیر، ویمنز ٹیم ٹرائنگولر سیریز میں مشکلات کا شکار
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم