نئی نہروں کیلیے پانی کی دستیابی کے سرٹیفکیٹ کیخلاف درخواست کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-08-8
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں نئی نہروں کیلیے پانی کی دستیابی کے سرٹیفکیٹ اور ارسا میں سندھ سے وفاقی رکن کی عدم تعیناتی کے خلاف درخواست کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ سندھ ہائیکورٹ میں نئی نہروں کے لئے پانی کی دستیابی کے سرٹیفکیٹ اور ارسا میں سندھ سے وفاقی رکن کی عدم تعیناتی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ایڈیشنل
اٹارنی جنرل کاکہنا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے مختلف فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے ،وفاقی حکومت کی اپیل پر آج عدالت عظمیٰ میں سماعت مقرر ہے ،درخواست گزار کے وکیل کاکہنا تھا کہ وفاقی حکومت ارسا میں سندھ سے وفاقی رکن کی تقرری کے معاملے پر آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے ،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے غیر قانونی حکم امتناع لیا گیا ہے ،اور پھر اس معاملے پر دونوں ہائیکورٹ میں تضاد ظاہر کرکے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا گیا ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نا کرنے کے بہانہ ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ کے خلاف
پڑھیں:
لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عدالت نے لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد نعیم انور نے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نعمان محب نے موقف اپنایا کہ خیبرپختونخوا میں سکت نہ رکھنے والے افراد کے لیے لیگل ایڈ ایجنسی قائم کی جانی تھی تاہم چھ سال گزرنے کے باوجود تاحال ایکٹ پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے افواہیں بے بنیاد ہیں: جیل حکام
وکیل کے مطابق اس قانون کے تحت ایسے قیدی اور گھریلو تنازعات کا سامنا کرنے والی خواتین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جانی تھی جن کے پاس وکیل کرنے کی استطاعت نہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کن کیسز میں حکومت مفت وکیل فراہم کرنے کی پابند ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ قیدیوں اور گھریلو تنازعات سے متعلق خواتین کے کیسز میں حکومت وکلاء کی فیس خود ادا کرنے کی پابند ہے۔
بعدازاں عدالت نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری قانون خیبرپختونخوا سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
ٹک ٹاکر ایمان پر تشدد اور بال کاٹنے کی وجہ سامنے آ گئی
مزید :