data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے ارسا رکن سندھ سے تعینات کرنے کے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر اسٹیٹس کو برقرار رکھتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔ تفصیلات  کے مطابق عدالت عظمیٰ میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا ) میں سندھ سے وفاقی رکن  کی تعیناتی کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر سندھ اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمات یکجا کرنے کی ہدایت کردی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمن نے کہا کہ ارسا کے 5ارکان میں سے ایک ایک صوبوں سے اور ایک وفاق سے ہوتا ہے ، حکومت سندھ کی سمری اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے فیڈرل رکن  سندھ سے لگانے کا کہا گیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ارسا میں فیڈرل رکن  تو

کسی بھی صوبے سے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے، ہوسکتا ہے زیادہ بارش اور پانی کی وجہ سے فیڈرل رکن  سندھ سے لگانے کا کہا گیا ہو۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ارسا میں 4 ارکان چار صوبوں سے ہیں تو ممکن ہے وفاق اسلام آباد سے فیڈرل رکن لگا دے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ا ستفسار کیاکہ ارسا کے حوالے سے اصل اتھارٹی کون ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے جواب دیا کہ ارسا فیڈرل ادارہ ہے اور وفاق ہی اصل اتھارٹی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے جسے چیلنج کیا گیا ہے، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت عظمیٰ ہائیکورٹ کے عبوری حکمنامے پر فیصلے دے سکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ہماری اتنی پاورز ہیں تو کیا ہم پارلیمنٹ کو ہی معطل کر دیں؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری ہائیکورٹس سمیت آئینی 3 درخواستیں ہیں تینوں یہاں سنی جائیں۔ عدالت نے اسٹیٹس کو برقرار رکھتے ہوئے، فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔ خیال رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے ارسا رکن  سندھ سے تعینات کرنے کا حکم دیا تھا، وفاقی حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سندھ ہائیکورٹ عدالت عظمی فیڈرل رکن نے کہا کہ کہ ارسا ا تا ہے

پڑھیں:

شوگر ملز نہ چلانے کیخلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ میں سماعت، سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر طلب

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے گنے کی کرشنگ شروع نہ کرنے اور شوگر ملز بند رکھنے کے خلاف دائر درخواست پر سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر کو طلب کر لیا۔
درخواستگزار نے عدالت کو بتایا کہ شوگر کین ایکٹ کے مطابق کرشنگ سیزن 15 نومبر سے شروع ہونا تھا، جبکہ شوگر ملز 30 نومبر تک چلانا ضروری ہیں۔ تاہم 28 نومبر تک ملز بند پڑی ہیں جس کے باعث گنا گل سڑ رہا ہے۔
درخواستگزار نے مزید کہا کہ گنے کی کٹائی نہ ہونے کی وجہ سے گندم کی کاشت بھی متاثر ہو رہی ہے اور کسانوں کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔
عدالت نے سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر کو طلب کرتے ہوئے سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

 

متعلقہ مضامین

  • ای چالان نادہندہ ‘ وزیراعلیٰ سکواڈ‘ مشیر‘ ایل ڈی اے افسر کی گاڑیاں قابو آ گئیں
  • ججوں کو ذاتی  مفادات  سے بالا  تر ہوکر قانوں کی حخمرانی  کیلئے  گھڑے  ہونا چاہیے  : جسٹس جمال 
  • ججوں کو فیصلے قانون کے مطابق کرنے چاہیے نہ کہ ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے، جسٹس جمال مندوخیل
  • سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات: حسیب جمالی صدر منتخب، فریدہ منگریو جنرل سیکرٹری منتخب
  • قانون کی حکمرانی کے لئے ججوں کو کھڑا ہونا چاہئے؛جسٹس جمال مندوخیل
  • ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اپنانا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل
  • ججوں کو قانون کی حکمرانی کیلئے کھڑے ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل
  • شوگر ملز نہ چلانے کیخلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ میں سماعت، سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر طلب
  • آئینی ججز کی تقرری کے خلاف نوٹس پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ
  • چیف جسٹس آئینی عدالت کو نوٹس جاری کرنے کے نکتے پر فیصلہ محفوظ