ججوں کو فیصلے قانون کے مطابق کرنے چاہیے نہ کہ ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے، جسٹس جمال مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ججوں کو فیصلے قانون کے مطابق کرنے چاہیے نہ کہ ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے، جسٹس جمال مندوخیل WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے ججوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑے ہونا چاہیے۔
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تقریب سے خطاب میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑا ہونا چاہیے اور ججوں کو فیصلے قانون کے مطابق کرنے چاہیے نہ کہ ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ججوں کو کسی دباو میں آ کر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں، ججوں کو ہمیشہ صرف آئین کو ہی بالادست قرار دینا چاہیے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ججوں کو اپنی تمام توانائیاں سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے صرف کرنی چاہئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمتنازع ٹوئٹ کیس ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ہادی علی چٹھہ کی بریت کی درخواست خارج کر دی متنازع ٹوئٹ کیس ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ہادی علی چٹھہ کی بریت کی درخواست خارج کر دی شہباز شریف کا عمران خان پر 10ارب روپے ہرجانے کا کیس، اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اہم بیان ریکارڈ کرا دیا شہری پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست دیں،دنوں میں فیصلہ ہوگا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھارت کی عالمی سطح پر ایک اور ناکامی، آئی ایم ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارتی معیشت کو سی گریڈ دیدیا بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید بگڑ گئی ایف بی آر نومبر میں ٹیکس وصول کا ہدف حاصل کرنے میں ناکامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل قانون کے مطابق ذاتی مفادات کہ ججوں کو کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔