وزن بڑھانے کے لیے جنک فوڈ استعمال کرنے والا فٹنس انفلوئنسر ایک ماہ میں انتقال کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس کے شہر اورینبرگ کا 30 سالہ فٹنس انفلوئنسر دمرتی نویانزن اپنی زندگی کے تجربے میں ایک مہلک غلطی کر بیٹھا، وزن بڑھانے کے لیے یومیہ 10 ہزار کیلوریز پر مشتمل انتہائی خطرناک ڈائٹ پلان اپنانے لگا، جس کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر اس کا جسمانی وزن 105 کلوگرام تک پہنچ گیا اور وہ موت کے منہ میں جا پہنچا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فٹنس انفلوئنسر دمرتی نویانزن نے ابتدائی طور پر وزن میں کمی کا پروگرام شروع کرنے سے پہلے جسمانی حجم بڑھانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے روزانہ کی بنیاد پر جنک فوڈ پر بھاری مقدار میں کیلوریز استعمال کیں، جس میں ناشتے میں پیسٹری اور کیک، دوپہر کے کھانے میں مایونیز میں لت پت موموز اور رات کے کھانے میں برگر، پیزا اور دیگر ہائی کیلوریز اسنیکس شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہی آلو کے چپس اور دیگر کیلوری بھری اشیاء بھی اس کی روزانہ خوراک کا حصہ تھیں۔
چند ہفتوں میں دمرتی کے وزن میں 13 کلوگرام کا اضافہ ہوا اور اس نے انسٹاگرام پر اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے چپس کھاتے ہوئے نئے سنگ میل کا جشن منایا۔ 18 نومبر کو اپنی آخری پوسٹ میں اس نے فالوورز کو طبیعت کی خرابی کے بارے میں آگاہ بھی کیا، لیکن کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ پیغام اس کی زندگی کی آخری خبر بن جائے گا۔
ایک دن قبل دمرتی نے اپنی کوچنگ سیشنز منسوخ کر دیے اور دوستوں کو بتایا کہ وہ بیمار ہے اور ڈاکٹر سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مگر اگلے چند گھنٹوں میں نیند کے دوران دل کی حرکت رکنے سے دمرتی نویانزن زندگی کی بازی ہار گیا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دمرتی کا دل اور دیگر اندرونی اعضا طویل عرصے تک ہائی کیلوریز خوراک کے دباؤ کے سبب متاثر ہوئے۔ اس طرح کی خوراک سے بلڈ شوگر، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے دل کو معمول کے مطابق کام کرنے کے لیے اضافی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگرچہ دمرتی دیگر زیادہ وزن والے افراد کے مقابلے میں نسبتا بہتر حالت میں تھا، لیکن خطرناک ڈائٹ پلان نے اس کی زندگی پر مہلک اثر ڈال دیا۔
یہ واقعہ ایک سبق آموز مثال ہے کہ فٹنس اور وزن کے حوالے سے حد سے تجاوز کرنے والے تجربات انسان کی صحت کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کا پاکستان سے ٹیکس کے استعمال میں شفافیت بڑھانے کا مطالبہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آئی ایم ایف نے ایک بار پھر پاکستان کے مالیاتی نظام میں پائی جانے والی کمزوریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے غلط اور غیر شفاف استعمال کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے جاری ہونے والی گورننس اور بدعنوانی سے متعلق رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سنگل ٹریژری اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) کے تحت مالی نظم و ضبط ناکافی ہے، جبکہ بجٹ کے نفاذ میں مسلسل کمزوریاں بڑے انتظامی اور گورننس مسائل کو جنم دے رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 برس میں کچھ بہتری ضرور ہوئی ہے مگر بجٹ کی ساکھ اب بھی اتنی کمزور ہے کہ پالیسی کی سطح پر کیے جانے والے فیصلوں کا عملی میدان میں مؤثر انعقاد ممکن نہیں ہو پاتا۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں بارہا سامنے آنے والی تاخیر، لاگت میں غیر معمولی اضافہ اور فنڈنگ کا تسلسل برقرار نہ رہنا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کا پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ ایک منظم اور مربوط نظام سے محروم ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ترقیاتی رفتار کو متاثر کیا ہے بلکہ منصوبہ سازی اور فنڈنگ کے درمیان عدم مطابقت بڑھا دی ہے، جو بڑے پیمانے پر وسائل کے ضیاع کا باعث بنتی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق سرکاری اخراجات کو شفاف اور جوابدہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ منصوبوں کے انتخاب، فنڈنگ کے بہاؤ اور عمل درآمد کے تمام مراحل میں سخت مانیٹرنگ کی جائے تاکہ عوامی سرمایہ کاری سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں 3 سے 6 ماہ کے اندر فوری اقدامات کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایس اے فریم ورک کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جائے ادارہ جاتی حدود واضح کی جائیں اور حکومتی نقدی کے بہاؤ کا ٹھوس انداز میں مؤثر کنٹرول قائم کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق فی الحال صورتحال اس قدر پیچیدہ ہے کہ نہ صرف ادارہ جاتی ذمہ داریاں مبہم ہیں بلکہ مختلف سرکاری ادارے بجٹ سے وسائل تو استعمال کرتے ہیں مگر روایتی احتسابی دائرے سے باہر ہونے کی وجہ سے ان کی سرگرمیوں پر مناسب نگرانی ممکن ہی نہیں ہو پاتی۔ یہ خلا ریاستی اداروں کو کمزور کرتا ہے اور بدعنوانی کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
علاوہ ازیں آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ پاکستان میں پارلیمانی نگرانی کمزور پڑ چکی ہے کیونکہ منظور شدہ بجٹ اور حقیقی سرکاری اخراجات کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جب پالیسی اور عمل درآمد کے درمیان فرق بڑھ جائے تو سرکاری اختیارات کے ذاتی یا سیاسی مفاد میں استعمال ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جو بدعنوانی کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مالیاتی گورننس کو بہتر بنانے، شفافیت بڑھانے، بدعنوانی کے خطرات کم کرنے اور عوام کے وسائل کے درست اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط اصلاحات نافذ کرے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط میں موجود کمزوریوں کو دور کرے، بجٹ کی شفافیت بہتر بنائے اور ایسے نظام کی تشکیل کرے جس میں سرکاری اداروں کے درمیان ذمہ داریاں واضح ہوں، احتساب یقینی ہو اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ کسی بھی صورت ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہونے پائے۔