سندھ ہائیکورٹ کا 2 روز میں ریچھ کو کراچی چڑیا گھر سے اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کراچی:۔ سندھ ہائی کورٹ نے کراچی چڑیا گھر میں موجود ریچھ “رانو” کو ایئر کارگو کے ذریعے دو روز میں اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے دوران بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ریچھ کی منتقلی پر اعتراض کیا جسے عدالت نے برہمی کے ساتھ مسترد کر دیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں کراچی چڑیا گھر میں موجود ریچھ “رانو” کے لیے ناکافی انتظامات سے متعلق جوڈ ایلن پریرا کی درخواست پرسماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ رانو کو 7 برس سے ایک جگہ قید رکھا ہوا ہے، اس کے سر میں کیڑے پڑ چکے ہیں جس پر عدالت نے سوال کیا کہ زو میں رانو کا علاج کیوں نہیں کیا جا رہا؟
وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ بھالوﺅں کی محفوظ پناہ گاہ چلا رہے ہیں۔ سینئر ڈائریکٹر کراچی زو نے بتایا کہ رانو کی حالت ایسی نہیں جیسا بیان کیا جا رہا ہے، رانو کی طبیعت ٹھیک ہے، پنجرہ بھی مناسب ہے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ آپ کے بیان کی سائنسی بنیاد کیا ہے؟ کسی ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ ریچھ کے لیے کتنی جگہ چاہیے ہوتی ہے؟
کے ایم سی کے وکیل نے بتایا کہ زو انتظامیہ نے رانو کو بڑے پنجرے میں منتقل کیا ہے، رانو کو منتقل کرنے سے عوام کو دستیاب تفریح ختم ہو جائے گی جس پرعدالت نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کی تفریح کے لیے جانوروں کو بند کریں گے؟ آپ کس صدی میں رہ رہے ہیں؟ دنیا بھر میں جانوروں کو قدرتی ماحول میں رکھا جاتا ہے جانوروں کو انسانوں کی تفریح کے لئے بند کرنا ظلم کی انتہا ہے۔
عدالت نے کے ایم سی کو حکم دیا کہ چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف جاوید مہر کی نگرانی میں رانو کو دو روز میں ایئر کارگو کے ذریعے اسلام آباد وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ منتقل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: اسلام آباد وائلڈ لائف عدالت نے بتایا کہ رانو کو
پڑھیں:
پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی 75 لاکھ کھالیں جمع ہوئیں۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی 75 لاکھ کھالیں جمع ہوئیں جس سے8.7 ارب روپے کی معاشی سرگرمی متوقع ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک دہائی کے دوران قربانی کے جانوروں کی تعداد 17 فیصد بڑھی ہے۔
اس سال 28 لاکھ گائے بیلوں، 43 لاکھ بکروں، 5 لاکھ بھیڑوں اور 30 ہزار اونٹوں کی کھالیں حاصل ہونےکا امکان ہے۔
ان کھالوں سے 9 سال میں چمڑے کی صنعت منافع بخش تیار مصنوعات کی طرف منتقل ہوئی جب کہ پاکستانی برآمدات میں چمڑے سے تیار مصنوعات کا حجم 694.20 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :