کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے مصطفیٰ قریشی کی ٹانگ ٹوٹ گئی، سر پر چوٹیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر چہل قدمی کے دوران فلم انڈسٹری کے معروف اداکار مصطفیٰ قریشی کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
لیجنڈ مصطفیٰ قریشی نے 700 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں ان کے متعدد ڈائیلاگز اب بھی زبان زد عام ہیں۔
انھوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک حادثے کے بارے میں بتایا کہ فجر کی نماز کے بعد وہ حسبِ معمول گھر کے باہر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک سڑک کے ٹوٹے ہوئے حصے میں پاؤں پھنس گیا۔
مصطفیٰ قریشی نے مزید بتایا کہ میرا پاؤں خستہ حال سڑک کے گڑھے میں اٹکا، میں زور سے گرا، سر بھی روڈ پر لگا اور ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اللہ کا شکر ہے آنکھ محفوظ رہی۔
انھوں نے شہر کی خستہ حالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ ہمارے حکمرانوں کو عقل دے کہ وہ شہر کی سڑکوں کی درست مرمت کریں۔
مصطفیٰ قریشی نے بتایا کہ وہ آج رضا ربانی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں شرکت کا ارادہ رکھتے تھے، مگر چوٹ کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔
ڈاکٹرز نے پلاسٹر کے بعد لیجنڈ اداکار کو 6 ہفتے مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔ اس دوران وہ تمام سماجی سرگرمیاں معطل رکھیں گے۔
فلمی ستاروں اور مداحوں نے مصطفی قریشی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر کی ٹوٹی سڑکوں پر توجہ دی جائے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ