نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب: اپوزیشن کس طرح نمبر گیم سے بازی پلٹ سکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب: اپوزیشن کس طرح نمبر گیم سے بازی پلٹ سکتی ہے؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
پشاور(آئی پی ایس) وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے، اور اب صوبے میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے جوڑ توڑ شروع ہوچکا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا ہے، مگر یہ فیصلہ بظاہر جتنا سادہ نظر آتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی پیچیدہ ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ موصول ہوچکا ہے۔ منظوری کے بعد گورنر اسمبلی کا اجلاس طلب کریں گے، جس میں موجودہ حکومت تحلیل ہونے اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا باضابطہ عمل شروع ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی آسانی سے اپنا وزیراعلیٰ منتخب کرا پائے گی؟
اسمبلی میں نمبر گیم کیا کہتی ہے؟
خیبر پختونخوا اسمبلی میں مجموعی طور پر 124 نشستیں ہیں، اور وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے لیے 73 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے کُل ارکان کی تعداد 92 ہے، لیکن ان میں سے 35 ارکان آزاد حیثیت رکھتے ہیں، یعنی وہ پی ٹی آئی کی ہدایت کے پابند نہیں۔ مزید یہ کہ 22 ارکان کے حلف نامے جمع ہونے کی خبریں بھی ہیں، جس سے پارٹی کی اندرونی صفوں میں تقسیم کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔
ادھر اپوزیشن کے پاس 53 ارکان ہیں، اور اگر وہ صرف 20 مزید ووٹ حاصل کر لے تو بازی پلٹ سکتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ متفقہ امیدوار کے نام پر اتفاق کیا جا سکے۔
نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گزشتہ 24 گھنٹوں سے متحرک ہیں۔ وہ اسپیکر بابر سلیم، وزرا اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ پارٹی قیادت چاہتی ہے کہ ووٹوں کے بکھراؤ سے بچنے کے لیے تمام ارکان کو سہیل آفریدی کے حق میں راضی کیا جائے۔
دوسری طرف اپوزیشن بھی سرگرم ہے۔
اپوزیشن جماعتیں آزاد ارکان سے رابطے میں ہیں اور ممکنہ طور پر ایک ایسا اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہیں جو پی ٹی آئی کی اکثریت کو چیلنج کر سکے۔
اگر آزاد ارکان نے اپوزیشن کا ساتھ دیا تو صورتحال ڈرامائی طور پر بدل سکتی ہے۔
صورتحال کو دیکھا جائے تو نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے یہ انتخاب کسی امتحان سے کم نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، آزاد ارکان کی پوزیشن، اور اپوزیشن کی جوڑ توڑ سب عوامل مل کر یہ طے کریں گے کہ اگلا وزیراعلیٰ کس کا ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکوئٹہ: رضاکارانہ واپسی کی مدت ختم، افغان مہاجرین کیخلاف کارروائیاں، 40 گرفتار غزہ امن معاہدہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کا تاریخی موقع ہے، وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کرلیا مسلم لیگ ن کا وفد صدر مملکت کو منانے میں کامیاب، بیان بازی نا کرنے پر وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے استعفی گورنر فیصل کریم کنڈی کو بھیجوا دیا سیاسی بیانات کی بنا پر تعلقات خراب نہیں ہونے چاہییں، وزیراعظم کی پی پی کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت علی امین گنڈاپور نے بطور وزیراعلی خیبرپختونخوا آخری کابینہ اجلاس کل طلب کرلیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نئے وزیراعلی سہیل ا فریدی پی ٹی ا ئی علی امین سکتی ہے کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔