خیبرپختونخوا: اپوزیشن جماعتیں وزیراعلیٰ کیلئے امیدوار لانے میں تقسیم کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
پشاور (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا میں حزب اختلاف کی جماعتیں وزارت اعلیٰ کے لیے امیدوار لانے میں تقسیم کا شکار ہو گئیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی خواہش ہے کہ اپنا امیدوار لایا جائے جبکہ جمعیت علمائے اسلام بھی اپنا امیدوار لانے کے لیے متحرک ہے، اپوزیشن جماعتوں کو متفق کرنے کے لیے سیاسی رہنماؤں نے کوششیں تیز کر دیں۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر آج جمعیت علمائے اسلام کے اہم رہنماؤں سے رابطہ کریں گے، گزشتہ روز بھی اپوزیشن لیڈر نے گورنر اور مولانا عطا الرحمان سے مشاورت کی تھی۔
واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر کی خواہش ہے کہ متفقہ طور پر تمام اپوزیشن جماعتیں ایک ہی امیدوار کو نامزد کریں۔
دوسری طرف خیبرپختونخوا کے مستعفی وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے آج شام اہم اجلاس طلب کرلیا، اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی اور رہنماؤں کو طلب کیا گیا ، اجلاس وزیر اعلیٰ ہائوس میں ہوگا۔
اجلاس سے علی امین گنڈاپور الوداعی خطاب کریں گے،وہ گزشتہ روز ہی آبائی گاؤں ڈی آئی خان جا رہے تھے، قریبی ساتھیوں نے نہ جانے کا مشورہ دیا تھا، آج خطاب کے بعد رخصتی ہوگی۔
یاد رہے کہ سلمان اکرم راجہ نے علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ سے ہٹائے جانے سے متعلق خبر کی تصدیق کی تھی کہ عمران خان نے علی امین گنڈاپور سے استعفیٰ طلب کرکے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔