گورنر خیبرپختونخوا کی علی امین گنڈا پور پر سخت تنقید، اپوزیشن کا ہنگامی اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک بار پھر گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’میر جعفر‘‘ اور ’’میر صادق‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے صوبے کے مفادات کو نقصان پہنچایا اور اپنی غیر سنجیدہ طرزِ سیاست سے سیاسی استحکام کو کمزور کیا۔ گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق فیصل کریم کنڈی سے صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر عباداللہ نے ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتِ حال، انتظامی امور اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کا محور صوبے میں جاری سیاسی تناؤ اور حکومت کی کارکردگی رہا۔ فیصل کریم کنڈی نے ملاقات کے دوران کہا کہ “ علی امین گنڈاپور نالائق اور کرپٹ تھے، ان کا طرزِ عمل ہمیشہ غیر واضح رہا۔ کبھی وہ ریاست کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، تو کبھی دہشت گردوں کے مؤقف کی حمایت میں بیانات دیتے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے نئے نامزد وزیرِ اعلیٰ میں بھی انتظامی صلاحیتوں کی کمی ہے اور خیبر پختونخوا ایک بار پھر سیاسی تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ گورنر نے زور دیا کہ صوبے میں گورننس کی بہتری، امن و امان کے قیام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی قیادت کو سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اب وعدوں اور نعروں سے آگے، عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ دوسری جانب صوبے کی بدلتی سیاسی فضا کے پیشِ نظر اپوزیشن جماعتوں نے آج ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں صوبے کی تازہ صورتحال، گورنر کے حالیہ بیانات اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس آئندہ حکومت سازی یا ممکنہ اتحادوں کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علی امین
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔