ملتان، مجلس وحدت مسلمین تحصیل صدر کا الیکشن، سید خرم جعفری صدر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
تنظیمی کنونشن میں صوبائی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی، صوبائی رہنما سید جواد رضا جعفری، صوبائی رہنما ثقلین نقوی اس کے علاوہ ضلعی ورکنگ کمیٹی کے اراکین، تحصیل کے یونٹس صدور اور ان کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ملتان تحصیل صدر کا تنظیمی کنونشن ضلعی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین ملتان عون رضا انجم ایڈوکیٹ کی زیر صدارت جامعہ شہید مطہری ملتان میں منعقد ہو، تنظیمی کنونشن میں صوبائی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی، صوبائی رہنما سید جواد رضا جعفری، صوبائی رہنما ثقلین نقوی اس کے علاوہ ضلعی ورکنگ کمیٹی کے اراکین، تحصیل کے یونٹس صدور اور ان کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر عون رضا انجم ایڈوکٹ نے ضلع کی حالیہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ سیلاب کے دوران ہونے والی فعالیت اور یونٹ سازی پر بریفنگ دی۔ علامہ قاضی نادر حسین علوی نے اپنے خطاب میں تنظیم کی اہمیت، تنظیم کے اغراض و مقاصد اور تنظیم کے ممبر کی ذمہ داریاں بیان کیں، صوبائی رہنما سید جواد رضا جعفری نے الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دیے اور ووٹنگ کرائی، کثرت رائے سے سیدخرم جعفری کو نیا صدر منتخب کیا گیا، ضلعی آرگنائزر عون رضا انجم ایڈوکیٹ نے نومنتخب تحصیل صدر سے حلف لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔