اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 اکتوبر2025ء) وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیرِ صدارت وزارتِ ریلوے میں پشاور ریلوے ڈویژن کے امور پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پشاور ڈویژن کی جانب سے وزیرِ ریلوے کو آن لائن بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں آپریشنز، مینٹیننس، اینٹی اِنکروچمنٹ مہم، صفائی ستھرائی اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

ڈی ایس پشاور فرمان غنی نے بتایا کہ پشاور ڈویژن میں ٹرینوں کی پنکچوئیلٹی 99 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران کھٹمل، مچھر یا لال بیگ سے متعلق کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فومیگیشن مہم مؤثر انداز میں جاری ہے اور ٹرینوں و اسٹیشنوں پر صفائی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

وزیرِ ریلوے نے ہدایت کی کہ ٹرین ڈرائیورز کی سیفٹی اور کمفرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مسافروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا وزارتِ ریلوے کی اولین ترجیح ہے۔محمد حنیف عباسی نے بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں پر کڑی نظر رکھنے اور مؤثر کارروائی کی بھی ہدایت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور ریلوے ڈویڑن کے 9 اسٹیشن مکمل طور پر سولر انرجی پر منتقل کر دیے گئے ہیں، جب کہ 1400 ریلوے کوارٹرز کی سولرائزیشن اور میٹرائزیشن کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اینٹی اِنکروچمنٹ مہم بھرپور انداز میں جاری ہے اور ریلوے اراضی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔ وزیرِ ریلوے نے پشاور ڈویڑن کی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ تمام ریلوے ڈویڑنز میں اسی طرز کی تفصیلی بریفنگز باقاعدگی سے منعقد کی جائیں گی۔محمد حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلوے جدّت، شفافیت اور عوامی خدمت کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور محکمہ ریلوے مسافروں کو بہتر سہولیات، صفائی اور محفوظ سفر فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حنیف عباسی اور ریلوے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش