کراچی:ناردرن بائی پاس پرافغان بستی میں آپریشن، 300 سے زائدغیرقانونی مکانات اور دکانیں مسمار
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کراچی:ناردرن بائی پاس پرافغان بستی میں آپریشن، 300 سے زائدغیرقانونی مکانات اور دکانیں مسمار WhatsAppFacebookTwitter 0 15 October, 2025 سب نیوز
کراچی (آئی پی ایس )کراچی میں ناردرن بائی پاس پر افغان بستی میں آپریشن کے دوران 300 سے زائد غیر قانونی مکانات اور دکانوں کو مسمار کردیا گیا۔ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق آج پولیس آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے، پولیس کو مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن ہم اپنا ٹاسک پورا کریں گے، کل صبح دوبارہ آپریشن شروع ہوگا، آپریشن چند روز تک جاری رہیگا۔
ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق آپریشن کے دوران متعد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ کا کہنا ہیکہ افغان بستی میں 24 گھنٹے پولیس کی نفری تعینات رہے گی، کسی کو بھی سرکاری اراضی پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائیگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر ایف پی سی سی آئی کا سی پیک فیز ٹو کے تحت کاروباری تعلقات کو مزید وسعت دینے پر زور نوجوانوں میں بے چینی،جین زی اور فوج کی خاموش حمایت ،دنیا کے مختلف ممالک میں حکومتوں کی چھٹی حماس نے خود ہتھیار نہ ڈالے تو ہم طاقت کے ذریعے غیرمسلح کردیں گے؛ ٹرمپ عالمی مثبت جائزے پاکستانی معیشت میں پیشرفت کا ثبوت ہیں، وفاقی وزیر خزانہ ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں مزید توسیع کر دی طالبان کی درخواست پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان فیلڈ مارشل کی صدر مملکت سے ملاقات، افغان طالبان کے جارحانہ اقدامات پر بریفنگCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بستی میں
پڑھیں:
فاروق رحمانی کی جموں میں صحافی کے گھر کو مسمار کرنے کی مذمت
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جرات مندانہ آوازوں کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر رہنما اورجموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے جموں شہر میں صحافی ارفاز احمد کے گھر کی مسماری کی مذمت کرتے ہوئے بہیمانہ کارروائی کو مقبوضہ علاقے کی اصل تصویر سامنے لانے والے صحافیوں کو دیوار کے ساتھ لگانے کی مودی حکومت کی منصوبہ بند سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بغیر کسی معقول وجہ اور کسی پیشگی اطلاع کے بغیر گھر کی مسماری شدید ناانصافی اور ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جرات مندانہ آوازوں کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے گھروں ،دکانوں کو جلانا، ان کے گلے کاٹنا اور بے قصور لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کا مقصد تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں، طلباء، تاجروں کی زندگی کو جہنم بنایا اور مالی لحاظ سے مشکلات کا شکار کرنا ہے۔ محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں قائم نیشنل کانفرنس کی حکومت بی جے پی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسیوں کو روکنے اور کشمیریوں کے مفادات کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کےخلاف جاری جابرانہ بھارتی پالیسیوں کے خلاف عملی اقدامات کریں۔