وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا۔
وفاقی کابینہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا، افغان طالبان، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی اشتعال انگیزی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے مصر کے دورہ سے کابینہ ارکان کو آگاہ کریں گے، غزہ امن سربراہی اجلاس کے دوران پاکستان کو ایک اہم مقام حاصل رہا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے فیصلے بھی توثیق کے لئے پیش کئے جائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمذہبی جماعت کا احتجاج: پولیس نے سی سی ٹی وی اور جیوفینسگ سے گرفتاریاں شروع کردیں مذہبی جماعت کا احتجاج: پولیس نے سی سی ٹی وی اور جیوفینسگ سے گرفتاریاں شروع کردیں سی ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کوایک ارب 84کروڑ روپے سے زائد کے واجبات پر حتمی شوکاز نوٹس جاری کردیا،کاپی سب نیوز پر اسلام آباد کی مشہور ہاؤسنگ اسکیم پر سی ڈی اے کا شکنجہ ، 42 ملین کے واجبات کا مطالبہ جج ہمایوں دلاور کیخلاف پروپیگنڈا مہم؛ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے پی کی درخواست خارج، تحریری فیصلہ جاری ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال، نئی سیاسی جماعت میدان میں آگئی پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی انتقال کرگئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔