وزیراعظم سے فلسطینی صدر کی ملاقات، سیاسی و سفارتی مدد پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
وزیراعظم نے اہل غزہ کو ہمت و بہادری سے صعوبتیں برداشت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا، فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی شرم الشیخ میں فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات ہوئی، بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ بھی ملاقات و گفتگو میں شریک تھے۔
صدر محمود عباس نے فلسطینیوں کی سیاسی و سفارتی مدد پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا، دونوں رہنماؤں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور پاکستان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعقات مثالی ہیں۔
وزیراعظم نے اہل غزہ کو ہمت و بہادری سے صعوبتیں برداشت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا، دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف مصر کے شہر شرم الشیخ پہنچے، شرم الشیخ ایئر پورٹ پر مصر کے وزیر ڈاکٹر اشرف صبحیی نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
شرم الشیخ ایئر پورٹ پر مصر کے وزیر ڈاکٹر اشرف صبحیی نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ وفد میں شامل ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غزہ امن منصوبہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی جانب اہم قدم ہے، تاریخی’غزہ امن منصوبے‘ کی دستخطی تقریب میں آج صبح شرم الشیخ پہنچا ہوں، ہم شریک میزبانوں صدر السیسی اور صدر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ صدر ٹرمپ کی غیر معمولی قیادت اور اُن کے عزمِ صمیم کے بغیر ممکن نہیں تھا، امن کے حصول کے لیے ٹرمپ کی یکسو جدوجہد نے خونریزی اور تباہی کا خاتمہ ممکن بنایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف شرم الشیخ مصر کے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔