شہبازشریف نے کرپشن میں ملوث سنیئر افسر کو بر طرف کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سٹی42: وزیراعظم شہبازشریف نے کرپشن میں ملوث سنیئر افسر کو بر طرف کر دیا۔
وزیراعظم کے حکم پر ایف بی آرکےگریڈ20کے اہلکار رانا وقارعلی کو ملازمت سےبرطرف کرنے کا نوٹیفیکیشن نکال دیا گیا۔
برطرفی سے پہلے 20 ویں گرید میں کام کر رہے اس سینئیر اہلکار پر الزامات کی مفصل تحقیقات کی گئی تھیں۔ ان تحقیقات میں راناوقارعلی پرنااہلی،مس کنڈیکٹ اورکرپشن کےالزامات ثابت ہوئے۔رانا وقار علی ایف بی آر میں ان لینڈریونیو میں کام کر رہے تھے۔
سیمنٹ سستاہوگیا
ان کے متعلق تحقیقات کے لئے آئی آر ایس گریڈ21کی افسر آمنہ حسن کوانکوائری افسر مقررکیا گیا تھا۔
انکوائری میں رانا وقار علی پر کرپشن میں ملوث ہونے اور مِس کنڈکٹ کے تمام الزامات صحیح ثابت ہوئے۔
انکوائری افسر نےرانا وقارعلی کو ملازمت سےبرطرف کرنےکی سفارش کی تھی۔
انکوائری رپورٹ کی روشنی میں رانا وقارعلی کو شوکاز نوٹس بھجوایا گیا تھا۔
وزیراعظم نے ملزم کی ذاتی شنوائی کے لئے آئی آر ایس گریڈ22 کے آفیسر سید ندیم حسین رضوی کو ہئیرنگ افسرمقررکیا تھا۔
نادرا کی جانب سے شہریوں کیلئے نئی سہولت
ہئیرنگ افسر نےملزم افسر کو شنوائی کا معقول موقع فراہم کیا۔
گریڈ20 کے رانا وقارعلی کو برطرفی کے خلاف اپیل کاحق حاصل ہے۔
برطرفی کےخلاف اپیلیٹ اتھارٹی میں 30 روزکے اندر اپیل کی جاسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: رانا وقارعلی کو
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک