راولپنڈی میں 4 روز بعد تعلیمی ادارے، تجارتی مراکز کھل گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
راولپنڈی میں 4 روز بعد تعلیمی ادارے، تجارتی مراکز کھل گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 13 October, 2025 سب نیوز
راولپنڈی: (آئی پی ایس) راولپنڈی میں 4 روز بعد تعلیمی ادارے کھل گئے، اسلام آباد اور راولپنڈی کی تمام رابطہ سڑکیں بھی کھول دی گئی ہیں۔
راولپنڈی مری روڈ پر دکانیں اور تجارتی مراکز بھی کھل گئے ہیں جبکہ مری روڈ سے فیض آباد جانے والا راستہ تاحال بند ہے۔
جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس بند ہے جبکہ موبائل فون اور ڈیٹا سروسز بحال ہوگئی ہے۔
اس کے علاوہ آئی جی پی روڈ، ڈبل روڈ، ایکسپریس وے کو ٹریفک کے لئے بحال کر دیا گیا، راولپنڈی سے ڈبل روڈ نائنتھ ایونیو راستہ کھول دیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ امن معاہدے پر 20 ملکی سربراہی اجلاس، وزیراعظم شہباز شریف مصر روانہ چینی سفارت خانے میں رنگا رنگ ثقافتی مشاعرہ سے پاک-چین دوستی کا دلکش اظہار آزمائش کی گھڑی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کااعلامیہ شرمناک حدتک افسوسناک ہے، عرفان صدیقی طالبان کو کہتا ہوں بھارت کبھی آپ کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا، بھارت پر یقین نہ کریں، حافظ نعیم الرحمان گنڈاپور کے استعفی کی منظوری میں آئین کی مکمل پاسداری کروں گا، فیصل کریم کنڈی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی،وفاقی وزیر مصدق ملک جنگی بندی معاہدہ، مصر اور امریکی صدر کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف شرم الشیخ کا دورہ کرینگےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کھل گئے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔