اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز 2019ء کے رول 21 کو بروئے کار لانے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت اینٹی کرپشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سونی جواری سینٹر آف پبلک پالیسی سے متعلق تمام تحقیقات یا انکوائریاں فی الفور روک دے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ گلگت بلتستان نے اینٹی کرپشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ سونی جواری سینٹر آف پبلک پالیسی سے متعلق تحقیقات روک دے۔ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز 2019ء کے رول 21 کو بروئے کار لانے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت اینٹی کرپشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سونی جواری سینٹر آف پبلک پالیسی سے متعلق تمام تحقیقات یا انکوائریاں فی الفور روک دے۔ مراسلے میں کہا گیا کہ چیف منسٹر آفس بطور ایپکس ادارہ انتظامی و مالی شفافیت کو یقینی بناتا ہے اور قواعد و ضوابط کی سختی سے پاسداری کرتا ہے، اس لیے متعلقہ ادارے سے تحقیقات روکنے کی استدعا کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے سونی جواری سینٹر آف پبلک پالیسی میں مبینہ بد انتظامیوں اور بدعنوانیوں کی تحقیقات شروع کی تھی تاہم سابق وزیر اعلیٰ نے جاتے جاتے اس انکوائری کو روکنے کی ہدایت جاری کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سونی جواری سینٹر آف پبلک پالیسی گلگت بلتستان نے اینٹی کرپشن

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف