پی ٹی آئی کے ارکان مستعفی، پنجاب میں کئی ماہ سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نہ ہو سکا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
لاہور:
تحریک انصاف کی کمیٹیوں سے مستعفیٰ ہونے کی حکمت عملی عوام کے لیے مسئلہ بننے لگی، پنجاب اسمبلی میں متعدد ماہ سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نہ ہو سکا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پی اے سی 1 کے اجلاس سابق اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کے ن اہل ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہوئے، متعدد ماہ نئے اپوزیشن لیڈر کا تعین نہ ہو سکا۔
معین ریاض قریشی نئے اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے کے بعد پی اے سی 1 کا ایک بھی اجلاس کروائے بغیر چئیرمین شپ سے مستعفیٰ ہوئے، معین قریشی کا استعفیٰ سپیکر پنجاب اسمبلی کی منظوری کا منتظر ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن کو استعفوں پر غور کرنے کا موقع دے رکھا ہے، اپوزیشن نے تاحال اسپیکر پنجاب اسمبلی کو اپنے پختہ فیصلے سے آگاہ نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق سیاسی حکمت عملی کے باعث متعدد ماہ سے احتساب کا عمل رکا ہوا ہے، پی اے سی 1 کی چیئرمین شپ صوبہ پنجاب میں اپوزیشن کے پاس ہی رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔