آج کی سیاست صرف طاقتوروں کے لیے رہ گئی ہے:حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ سیاسی اور معاشی حالات بھی عام شہری کے لیے سازگار نہیں رہے، آج کی سیاست صرف طاقتوروں کے لیے رہ گئی ہے۔
لاہور میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام انٹرنیشنل گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے اکٹھے ہونے کا مقصد انسانیت کو درپیش مسائل سے آگاہ کرنا ہے، دنیا میں جو نظام چل رہا ہے وہ ناکام ہوچکا ہے اور مسلم ممالک کو بھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے، عالمی سطح پر صنعتی ترقی سے عام آدمی کو کچھ نہیں ملا۔
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اختلاف اور لڑائی تہذیب کے ساتھ ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ آج ورلڈ آرڈر کی مثال بن گیا ہے اور کارپوریٹ سیکٹر بھی صرف طاقتور طبقے کے ساتھ کھڑا ہے، اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل معذور ہوچکے ہیں اور عالمی طاقتوں کے اشاروں پر چلتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ فلسطین میں دونوں اداروں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ دنیا تبدیل ہو رہی ہے، امتِ مسلمہ کو بھی بدلتے وقت کے ساتھ اپنا لائحہ عمل بنانا ہوگا۔
انہوں نے کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر ظلم و جبر کر رہی ہے، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔