اختلاف اور لڑائی تہذیب کیساتھ ہونی چاہیے: حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
حافظ نعیم الرحمٰن—تصویر بشکریہ فیس بک
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اختلاف اور لڑائی تہذیب کے ساتھ ہونی چاہیے۔
لاہور میں جماعتِ اسلامی کے اجتماعِ عام سے آخری روز خطاب میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین ہماری ریڈ لائن ہیں، فلسطین کی حمایت کریں اور پوری قوم کو اس پر ساتھ لے کر چلیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے اجارہ داری قائم کر کے ملک کو کرپشن اور ناانصافی کا گڑھ بنا دیا ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ اختلاف اور لڑائی تہذیب کے ساتھ ہونی چاہیے، چاہتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہو۔
اُن کا کہنا ہے کہ امریکا کی غلامی اختیار کر کے ہم نے اپنا بہت نقصان کر لیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشی حاصل کرنے کے لیے جو کیا جا رہا ہے، بہت غلط ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی جماعتوں میں نظم و ضبط کا بحران ہے، ہمارا مقصد اجتماعیت کو طاقت ور بنانا ہے، لوگ خود بخود شامل ہوتے چلے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت میں جو چلے گا وہ نظام کے تحت چلے گا، جب تک قومی انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں ہوتا ہمارا کوئی امیدوار نہیں، ایک ایک کارکن ہمارا امیدوار ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر عمل کرنا ہی ہمارا نصب العین ہے، ہمیں چاہیے کہ اقامتِ دین کی اس تحریک کے ساتھ جڑے رہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ ہمیں دین کی سر بلندی کے لیے کام کرتے رہنا ہے، زندگی کے آخری سانس تک کوشش کرتے رہنا ہمارا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ آپ نے 3 دن بڑے عزم و استقامت سے گزارے ہیں، اب دینِ اسلام کا پیغام ہر ایک تک پہنچانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔