وزیراعظم نے ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل طلب کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی سلامتی، معیشت اور خطے میں بڑھتی کشیدگی سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں افغان طالبان، فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیزی اور سرحدی خلاف ورزیوں کے تناظر میں قومی سلامتی کی حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں سیکورٹی اداروں کی تازہ بریفنگ پیش کی جائے گی اور متعلقہ وزارتوں کو صورتحال کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے حالیہ مصر کے دورے کی تفصیلات بھی کابینہ کو فراہم کریں گے۔ انہوں نے قاہرہ میں ہونے والے غزہ امن سربراہی اجلاس میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا، جسے مسلم ممالک اور بین الاقوامی برادری نے سراہا۔ اجلاس میں فلسطینی عوام کی حمایت سے متعلق مستقبل کی حکمتِ عملی پر بھی مشاورت متوقع ہے۔
علاوہ ازیں وفاقی کابینہ قانون سازی سے متعلق کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرے گی، جب کہ اقتصادی صورتحال، بجلی و گیس نرخوں، اور مہنگائی کے دباؤ سے نمٹنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
وزیراعظم کی ہدایت پر تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس میں کمی کی تیاری، سپر ٹیکس مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد اس حوالے سے تکنیکی اور پالیسی سطح پر باضابطہ کام شروع کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان بزنس کونسل کے سیمینار سے خطاب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کم آمدنی والے اور درمیانی تنخواہوں والے افراد کو ریلیف دینے کیلئے ٹیکس ریٹس میں تبدیلیوں پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے، وزیراعظم نے بڑی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس میں بھی کمی کی ہدایت دی ہے، جسے بتدریج کم کرکے مکمل طور پر ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، تاکہ سرمایہ کاری بڑھائی جائے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔
راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ سپر ٹیکس کے خاتمے کے معاملے پر آئی ایم ایف سے بھی بات چیت کی جائے گی، جبکہ ٹیکس ریٹس میں مجموعی کمی کا انحصار ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے اور کمپلائنس بہتر ہونے پر ہوگا، جتنا زیادہ افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے، اتنا ہی آسان ہوگا کہ حکومت ٹیکس شرحوں میں کمی لاسکے۔
سیمینار سے خطاب میں سابق نگران وزیر گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات کا سامنا کیا مگر عسکری اور سیاسی قیادت کی مشترکہ کوششوں کے باعث صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی ہے، بڑے پیمانے پر صنعتوں کی بندش کے باوجود کاروباری برادری نے یکجہتی دکھائی اور اب ملکی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کیلئے تمام چیمبرز اور تاجر تنظیمیں مل کر کام کر رہی ہیں۔
گوہر اعجاز کے مطابق 70 ارب ڈالر کی درآمدات اور 15 ارب ڈالر کی پیٹرولیم درآمدات ملکی معیشت کیلئے بڑا چیلنج ہیں، اور مسائل تب ہی حل ہوں گے جب پالیسی سازی میں حقیقی کاروباری نمائندوں کو شامل کیا جائے۔