ترکیہ اور آذربائیجان کے اسپیکرز کی صدر زرداری سے ملاقات، سہ فریقی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر نعمان کُرتلموش اور آذربائیجان کی ملی مجلس کی چیئرپرسن محترمہ صاحبہ غفاروا نے آج ایوانِ صدر میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کی، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق بھی اس موقع پر موجود تھے۔
صدر زرداری نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات مشترکہ عقیدے، باہمی اعتماد اور خطے میں امن و خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
President @AAliZardari with Dr.
— PPP (@MediaCellPPP) October 13, 2025
صدرِ مملکت نے ترکیہ، آذربائیجان اور پاکستان کے مابین تیسرے سہ فریقی اسپیکرز کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر دونوں مہمانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فورمز پارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
چیئرپرسن صاحبہ غفاروا نے صدر زرداری کو آذربائیجان کی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں۔
انہوں نے بتایا کہ سہ فریقی اسپیکرز کانفرنس کا پہلا اجلاس آذربائیجان، دوسرا ترکیہ، اور تیسرا اب پاکستان میں منعقد ہورہا ہے۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے پاکستانی ارکانِ پارلیمنٹ کو باکو کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ دونوں ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق چیلنجز سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کو مزید وسعت دے سکیں۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔
انہوں نے ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی حمایت، خصوصاً اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل برائے 2028-2026 کے لیے پاکستانی اُمیدواری کی تائید پر شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں:
صدرِ مملکت نے اقتصادی تعاون کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کو دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہییں۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ کی خصوصی اقتصادی زونز میں دلچسپی قابلِ قدرہے اوراعلان کیا کہ آئندہ ایک اقتصادی زون کا نام صدر رجب طیب ایردوان اسپیشل انڈسٹریل زون رکھا جائے گا، جو دونوں ممالک کی دوستی کا مظہر ہوگا۔
آذربائیجان کی چیئرپرسن سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات باہمی احترام اور اسٹریٹجک تفہیم پر مبنی مثالی تعلقات ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے پارلیمانی وفود کی سرگرمیاں کیا ہیں؟
انہوں نے استنبول، تہران، اسلام آباد ریلوے کوریڈوراورانٹرنیشنل نارتھ اورساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور جیسے منصوبوں کے ذریعے علاقائی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، ترکیہ کے سفیرعرفان نزیراوغلواورآذربائیجان کے سفیرخضرفرہادوف بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آذربائیجان اسپیکر ایاز صادق آصف علی زرداری باکو ترکیہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا صدر مملکت عرفان نزیر اوغلو گرینڈ نینشل اسمبلی ملی مجلس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر ایاز صادق ا صف علی زرداری باکو ترکیہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا صدر مملکت عرفان نزیر اوغلو گرینڈ نینشل اسمبلی ملی مجلس اور آذربائیجان کے کہا کہ پاکستان پاکستان اور انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔(جاری ہے)
منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔