اسپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق  نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کا سہ فریقی تعاون ایک منفرد اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ ہے، جو صرف حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ عوام کی خواہشات اور پارلیمان کی آواز کی عکاسی کرتا ہے۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے زیرِ اہتمام پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کی سہ فریقی اسپیکرز کانفرنس کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی۔ اس موقع پر ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی اور آذربائیجان کی ملی مجلس کے اسپیکرز نے بھی شرکت کی۔

 افتتاحی اجلاس اور خیرمقدمی کلمات

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ترکیہ اور آذربائیجان کے ہم منصبوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور ان کی شرکت کو پاکستان کے لیے باعثِ مسرت اور فخر قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن ایک صفحے پر ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق


انہوں نے کہا کہ سہ فریقی کانفرنس کا موضوع ’برادرانہ تعلقات کا استحکام، علاقائی امن و خوشحالی کے لیے پارلیمانی تعاون کا فروغ‘ ہے۔ یہ کانفرنس تینوں ممالک کے درمیان دوستی، اخوت اور علاقائی تعاون کے نئے باب کا آغاز ہے۔

 تینوں ممالک کے تعلقات اور شراکت داری

اسپیکر نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کا سہ فریقی تعاون ایک منفرد اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ ہے، جو صرف حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ عوام کی خواہشات اور پارلیمان کی آواز کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شراکت حکومتوں کی نہیں، عوام کے دلوں کی ترجمانی ہے۔ تینوں ممالک کی دوستی اعتماد، محبت اور اخوت پر مبنی ہے۔

ایاز صادق نے اس موقع پر ترکیہ اور آذربائیجان کے پارلیمانی وفود کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا:

’پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ کی دوستی زندہ باد۔ پاکستان زندہ باد، آذربائیجان زندہ باد، ترکیہ زندہ آباد!‘

 عالمی و علاقائی صورتِ حال پر اظہارِ خیال

اسپیکر نے کہا کہ موجودہ عالمی نظامِ سلامتی شدید دباؤ کا شکار ہے اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے اصولوں کی خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

انہوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ غزہ میں دو سالہ ظلم و بربریت انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔ دنیا کو اب خاموشی توڑنی ہوگی۔

سردار ایاز صادق نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام 7 دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔ وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان اسرائیل کو ریاست نہیں، دہشتگرد تنظیم کے طور پر تسلیم کرتا ہے:سردار ایاز صادق

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مئی میں پاکستان پر کی گئی جارحیت کا قوم اور افواجِ پاکستان نے ’آپریشن بنیان المرصوص‘ کے ذریعے منہ توڑ جواب دیا۔
ایاز صادق نے واضح کیا کہ بھارت کا جھوٹ اور پروپیگنڈا عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔

 دوست ممالک کے کردار اور علاقائی امن

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک  خصوصاً ترکیہ، آذربائیجان، چین اور سعودی عرب کے شکر گزار ہے جنہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔

انہوں نے بھارت کی آبی معاہدہ منسوخی کی دھمکیوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عزائم خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان ہمیشہ امن، احترامِ خودمختاری اور باہمی تعاون کی پالیسی پر کاربند رہا ہے۔

 دہشت گردی کے خلاف مؤقف

سردار ایاز صادق نے کہا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں، اسے ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں درکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پاک فوج نے ہوشمند اور مؤثر کارروائیوں سے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے۔

’شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم نے اپنی سرزمین امن اور استحکام کا گہوارہ بنانے کا عزم کر رکھا ہے۔‘

 ماحولیاتی تبدیلی اور موسمیاتی انصاف

اسپیکر نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب جیسے سانحات عالمی ماحولیاتی ناانصافی کا ثبوت ہیں، اور وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا موسمیاتی انصافکے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔

 پارلیمان کا کردار اور سہ فریقی تعاون

سردار ایاز صادق نے زور دیا کہ پارلیمان وہ ادارہ ہے جو عوامی نمائندگی کے ذریعے امن، ترقی اور خوشحالی کی سمت رہنمائی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے پارلیمان آپسی تعلقات کے مزید استحکام کے خواہاں ہیں اور سہ فریقی پارلیمانی تعاون علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہوگا۔

انہوں نے تجویز دی کہ تینوں ممالک کے پارلیمان ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی سالمیت اور عالمی سلامتی پر مشترکہ گول میز کانفرنسز کا سلسلہ شروع کریں تاکہ پارلیمانی سطح پر ٹھوس تجاویز سامنے لائی جا سکیں۔

افتتاحی اجلاس کے اختتام پر اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہماری مشترکہ کوششیں علاقائی استحکام اور عوامی خوشحالی کا پیش خیمہ ہوں گی۔
پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کی دوستی صرف آج کی نہیں، آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

ترجمان قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق سہ فریقی اسپیکرز کانفرنس کے دوران مختلف موضوعات پر سیشنز ہوں گے جن میں علاقائی امن، اقتصادی روابط، توانائی تعاون، ماحولیاتی تبدیلی اور پارلیمانی سفارت کاری پر خصوصی غور کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ترکیہ اور آذربائیجان سردار ایاز صادق نے ماحولیاتی تبدیلی نے کہا کہ پاکستان انہوں نے کہا کہ سہ فریقی تعاون افتتاحی اجلاس قومی اسمبلی تینوں ممالک علاقائی امن ممالک کے کرتا ہے کے لیے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا