تیسراسہ فریقی سپیکرز اجلاس، ترکیہ کی گرینڈ اسمبلی کے سپیکر پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اسلام آباد(خبرنگار)تیسرے سہ فریقی اسپیکرز اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر نعمان کورتولموش پاکستان پہنچ گئے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اسپیکر ترکیہ گرینڈ نیشنل اسمبلی کو خوش آمدید کہا اور معزز مہمان پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیابعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور اسپیکر گرینڈ نیشنل اسمبلی آف ترکیہ جناب نعمان کورتولموش کے درمیان مختصر ملاقات ہوئی۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ سہ فریقی اسپیکرز اجلاس میں آپ کی شرکت ہمارے لیے باعثِ مسرت اور اعزاز ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام اخوت، محبت اور دوستی کے اٹوٹ رشتے میں منسلک ہیں۔ پاکستان کے عوام ترکیہ کے عوام کو اپنا بھائی تصور کرتے ہیں، اور دونوں برادر ممالک ہر آزمائش میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیںاسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی فورمز پر ایک دوسرے کے مقف کی بھرپور تائید کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پائیدار دوستی اور باہمی اعتماد کا مظہر ہے اسپیکر گرینڈ نیشنل اسمبلی آف ترکیہ نعمان کورتولموش نے پرتپاک استقبال پر پاکستان کی پارلیمان اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی گرینڈ نیشنل اسمبلی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔