ایک اور پاکستانی ایئرلائن نے برطانیہ کے 3 شہروں کے لیے فلائٹ آپریشن کی اجازت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان کی نجی ایئرلائن ایئرسیال نے برطانیہ کے 3 اہم شہروں لندن، مانچسٹر اور برمنگھم کے لیے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کی باقاعدہ درخواست دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام برطانیہ کی جانب سے پاکستانی ایئرلائنز پر عائد پانچ سالہ پابندی کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے ایک بار پھر پاکستانی فضائی کمپنیوں کو یورپی فضاؤں میں پرواز کرنے کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔
ایئرسیال کی یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب اس سے قبل پی آئی اے اور ایئربلو بھی برطانیہ کے لیے پروازوں کی منظوری حاصل کرچکی ہیں۔ ایئرسیال کی درخواست پر عمل درآمد کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی یہ ائیرلائن بھی اپنی پروازیں شروع کر دے گی، جس سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو سفری سہولتوں میں اضافہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ایئرسیال کی انتظامیہ نے تمام مطلوبہ دستاویزات برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو جمع کرا دی ہیں اور ابتدائی منظوری کے بعد فلائٹ شیڈول مرتب کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
اس اقدام کو پاکستان کے فضائی شعبے میں ایک مثبت سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف ملکی ائیر لائنز کے اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ قومی معیشت پر بھی مثبت اثر ڈالے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئرسیال کی جانب سے برطانیہ کے 3 بڑے شہروں تک پروازیں شروع ہونے سے مقامی مسابقت بڑھے گی اور فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان بھی پیدا ہوگا۔ اس سے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا جو طویل عرصے سے محدود آپشنز کے باعث مشکلات کا شکار تھی۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایئرسیال کی برطانیہ کے
پڑھیں:
بھارت میں دوسری شادی پر پابندی کا بل منظور؛ 10 سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا
بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک متنازع قانون منظور کرلیا جسے مسلم دشمنی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست آسام میں اس قانون کی منظوری کے بعد ایک سے زائد شادی (پولیگمی) کو جرم قرار دیدیا گیا۔
جس کے تحت پہلی شادی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے پر 7 سال قید ہوسکتی ہے تاہم پہلی بیوی سے اجازت نہ لی تو سزا میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اسی طرح پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے پر 10 سال قید ہوسکتی ہے اور بار بار یہ جرم کرنے پر سزا دگنی ہوجائے گی۔
دوسری شادی کرنے اور کروانے والوں کو سرکاری نوکری یا مقامی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
اسی طرح دوسری شادی کروانے یا اس میں معاونت دینے والوں مثلاً گاؤں کے سرپنچ، مذہبی پیشوا، والدین یا سرپرست کو بھی 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے سے ڈیڑھ لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔
علاوہ ازیں اس بل میں غیر قانونی شادی کی شکار خواتین کو معاوضہ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی بھی شق شامل ہے۔
بل کی منظوری کے بعد وزیراعلیٰ نے بتایا کہ یہ قانون اسلام مخالف نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ازدواجی ذمہ داری اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
انھوں نے مثال دی کہ دیگر ممالک جیسے ترکیہ نے بھی دوسری شادی پر پابندی عائد کی ہے۔
اس قانون کو ذاتی آزادی اور مذہبی روایات پر قدغن سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں یا کمیونٹیز میں جہاں دوسری شادی کی مذہباً یا روایتاً اجازت ہے۔
مخصوص قبائل، نسل اور خود مختار علاقوں سمیت چند طبقات کو اس قانون سے جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے۔