پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائیگا ، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائیگا ، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 12 October, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھرپور اور موثر کارروائی پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائے گا ۔
اتوار کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے باک قیادت میں پاک فوج نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ ان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کر کے ان کو پسپائی پر مجبور کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا اور ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ہم ملک کے چپے چپے کا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں، پاک فوج نے ہمیشہ ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان نے کئی دفعہ افغانستان کو وہاں موجود فتن الخوارج اور فتن الہندوستان جیسے دہشت گرد عناصر کے بارے میں معلومات دی ہیں جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں،دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں موجود عناصر کی حمایت حاصل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان عبوری حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد عناصر کے استعمال میں نہ آئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلی کا انتخاب کل کیا جائے گا، صوبائی اسمبلی کا اجلاس صبح 10 بجے طلب خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلی کا انتخاب کل کیا جائے گا، صوبائی اسمبلی کا اجلاس صبح 10 بجے طلب کراچی سمیت سندھ بھر میں دفعہ 144نافذ، احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی عائد،نوٹیفکیشن جاری وزیراعلی کا انتخاب،پی ٹی آئی نے ن لیگ سے تعاون مانگ لیا خیبرپختونخوا کی وزارت اعلی کیلئے4امیدوار سامنے آ گئے، کاغذات نامزدگی منظور چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر راول ڈیم کے اطراف بھرپور صفائی مہم کا آغاز پاک افغان جھڑپ میں پاک فوج کے 23بہادر جوان شہید اور 29زخمی، 200سے زائد دہشت گرد ہلاکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور موثر جواب دیا
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔